آسیہ بی بی کیس کافوج سےکوئی تعلق نہیں، فوج مخالف بیان بازی افسوسناک ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
The news is by your side.

Advertisement

آسیہ بی بی کیس کافوج سےکوئی تعلق نہیں، فوج مخالف بیان بازی افسوسناک ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آسیہ مسیح کے کیس کا معاملہ قانونی ہے، اس کیس کے ساتھ تو فوج کا کوئی تعلق نہیں، فوج کےخلاف بیان بازی کرنا افسوسناک عمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر کہا کہ گزشتہ چندد نوں میں ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ہے، سپریم کورٹ کےفیصلےکیخلاف مذہبی جماعتوں نے دھرنا دیا ہوا ہے، حضورﷺسے محبت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، حضوررﷺ کی شان میں گستاخی بحیثیت مسلمان قبول نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کیس میں فیصلہ دیاہے اور سپرم کورٹ کافیصلہ ایک لیگل پروسیس ہے، دینی جماعتوں سے درخواست ہے، لیگل پروسیس کا حصہ بنیں، نظرثانی درخواست دائر ہوگئی ہے، لیگل پروسیس مکمل ہونے دیں اس کے بعد اپنا فیصلہ دیں۔

میجرجنرل آصف غفور نے کہا ایک پاکستانی بحیثیت مسلمان درخواست ہے کیس کو عدالت میں چلنے دیں ، افواج پاکستان چاہے گی امن وامان کی صورتحال کا معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو، آئین اور قانون کے مطابق حد بندیاں دی گئی ہیں ان کا احترام کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کو ہر معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کیس کے ساتھ تو فوج کا کوئی تعلق نہیں، ایک لیگل پروسیس ہے، فوج کے خلاف بیان بازی کرنا افسوسناک عمل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتنے کے قریب ہیں، ملک میں مکمل امن کیلئے ابھی بہت کام کرناہے، ایسے موقع پر اگر فوج دائیں بائیں جائے گی تو پھر مسائل ہوں گے، جو ہمارے خلاف باتیں ہورہی ہیں، قانون کے مطابق ایکشن بھی ہوسکتاہے، افواج پاکستان برداشت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

میجرجنرل آصف غفور  کا کہنا تھا کہ پاک فوج پاکستان کی فوج ہے اورعوام سےہم محبت کرتےہیں، دشمن افراتفری اورانتشارپیداکرناچاہتاہے، دھرنے سے مذاکراتی ٹیم میں شامل افسر فوج کاحصہ ہے، حکومت خودبھی اس معاملےکوحل کرناچاہتی ہے، وزیراعظم کی جوبھی ہدایت ہوگی آرمی چیف کے حکم پر فوج اس پر عمل کرے گی۔

انھوں نے کہا آئین اورقانون کی بالادستی کومقدم رکھاجارہاہے، فوج کےدائیں بائیں جانےسےجوکام کررہےہیں وہ متاثر ہوں گے ، معاملہ ایسےاسٹیج پرنہ لے جائیں کہ ذمہ داری فوج پر آجائے، اسلام امن، برداشت اور صبرو تحمل کا درس دیتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  کا کہنا تھا افواج پاکستان کے پاس جیسے ہی کیس آئے، اس کے مطابق عمل کریں گے، افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف مصروف عمل ہے، ہمیں اسلامی تعلیمات اورقانون کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

میجرجنرل آصف غفور  نے کہا تمام مسلمانوں کاحضورﷺسےمحبت کارشتہ ہے، آسیہ مسیح کے کیس کا معاملہ قانونی ہے، ملک میں آئین اورقانون کی بالادستی مقدم رکھی جائے، یہ کیس 10برس سے عدالت میں چل رہا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آسیہ مسیح کیس کےفیصلےپرنظرثانی درخواست بھی دائرہوچکی ہے، چاہتےہیں تمام صورتحال پرامن طریقےسےحل ہوجائے، کیس سے متعلق پاک فوج کے خلاف بیانات درست نہیں، پاک فوج نےایک ایسی جنگ لڑی جو ہم جیتنے کے قریب ہیں، ایسےموقع پرفوج کےخلاف بیانات سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا اگرفوج پربلاجوازتنقیدبندنہ کی گئی توآئینی اختیاراستعمال کیا جائے گا، ہم نہیں چاہتےوہ نوبت آئے،سب برداشت کامظاہرہ کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں