The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے۔ ڈی جی نیب بلوچستان

کوئٹہ : ڈی جی نیب میجرریٹائرڈ طارق محمود نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی چوری کسی ایک شخص کا کام نہیں، جو بھی ملوث پایا گیا کاروائی کی جائےگی۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی نیب نے کہا کہ سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق احمد رئیسانی سے تحقیقات جاری ہیں، مزید تفتیش کے لئے ریمانڈ طلب کیا گیا ہے۔

لوکل گورمنٹ کے زریعے فنڈ جاری کئے جاتے ہیں، اتنی بڑی چوری ایک فرد کا کام نہیں اس میں اور لوگ بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔

ڈی جی نیب بتایا کہ کاروائی کےدوران 65 کروڑ 18 لاکھ روپے برآمد کئے گئے تھے جو سرکاری خزانے میں جمع کروادئیے گئے ہیں۔

ریٹائرڈ میجر طارق محمود نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کرپشن میں بیورو کریسی یا سیاستدان ملوث ہوئے تو بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشتاق رئیسانی کی گرفتاری ثبوت ملنے پر کی گئی ہے، ان کے خلاف لوکل گورنمنٹ فنڈز، پی ایس ڈی پی میں غبن کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

سکیرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کی مجسڑیٹ اول کے روبرو پیشی

واضح رہے سابق سیکریٹری خزانہ سے مزید تفتیش کے لئے نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو چودہ روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں