The news is by your side.

Advertisement

بچوں میں شوگر ہونے کی وجوہ کیا ہیں؟ بیماری سے جان کیسے چھڑائی جائے؟ جانیے

پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے، صرف بڑے ہی نہیں بچوں میں بھی اب شوگر کا مرض بڑھ رہا ہے، اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے شان رمضان پروگرام میں ڈاکٹر سید محمد حسن کی خصوصی گفتگو پیش کی جا رہی ہے۔

یہ نہایت تشویش ناک بات ہے کہ بچوں میں بھی اب شوگر کا مرض بڑھ رہا ہے، 13 سے 15 سال کے لڑکے، لڑکیوں میں شوگر کی تشخیص ہو رہی ہے، بچوں میں شوگر ہونے کی وجوہ کیا ہیں؟ اور اس بیماری سے چھوٹی عمر میں کیسے جان چھڑائی جا سکتی ہے؟ ڈاکٹر حسن نے اس پر تفصیلی گفتگو کی۔

ڈاکٹر حسن کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کی وجہ بچوں میں موٹاپا، موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال ہے، غیر معیاری خوراک اور ورزش سے دوری بھی بچوں میں شوگر کی بیماری کے اسباب ہیں۔

ڈاکٹر سید حسن محمد نے بتایا کہ جس طرح ہمارا لائف اسٹائل تبدیل ہو گیا ہے، خوراک تبدیل ہو گئی ہے، ہمارے رجحانات تبدیل ہو گئے ہیں، گھنٹوں موبائل، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز پر بیٹھے رہتے ہیں، اور اس کے بعد راتوں کو دیر تک جاگتے ہیں اور اس دوران کچھ نہ کچھ کھاتے بھی رہتے ہیں، جب کہ دوسری طرف جسمانی سرگرمی نہیں ہے۔ یہی وجوہ ہیں کہ بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چھوٹے بچوں میں ذیابیطس کا مرض بہت عام ہو گیا ہے، حتیٰ کہ ٹائپ 2 ذیابیطس بھی ہونے لگی ہے جب کہ ہم ٹائپ 1 کی توقع کرتے ہیں، اور جتنا جلدی یعنی کم عمری میں اس کی تشخیص ہوگی اتنا ہی یہ طویل عرصے تک چلتی ہے اور اتنی ہی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر حسن محمد نے بتایا کہ اچھی بات یہ ہے کہ ذیابیطس کو پلٹایا جا سکتا ہے، اگر ہم اپنے روز مرہ رویوں کو تبدیل کریں، یعنی ہم فطری خوراک کھائیں، اپنی صحت برقرار رکھنے پر توجہ بڑھائیں، تو ذیابیطس پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ آئندہ آنے والے کیسز کم ہوں۔

وسیم اکرم کی مثال اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑی مثال ہے، میرے پاس بھی جب بھی کوئی نیا شوگر مریض آتا ہے میں اسے انھی کی مثال دیتا ہوں، انھیں 17 سال کی عمر میں شوگر کے اثرات شروع ہوئے اور 21 سال کی عمر میں تشخیص ہو گئی، انھوں نے جس طرح فیلڈ میں رہ کر اپنی ذیابیطس کو کنٹرول کیا، کرکٹ کیریئر بنایا، شادی کی، باپ بھی بنے، تو یہ ایک مثال ہے کہ شوگر کے مرض کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور زندگی میں اپنے اہداف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران دنیا بھر میں لوگوں کا طرز زندگی بہت متاثر ہوا، لوگ گھر پر رہنے لگے، کھانے پینے کی عادات پر بڑا اثر پڑا، جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئیں، اس لیے یہ صرف کو وِڈ 19 کی وبا ہی نہیں تھی بلکہ ذیابیطس کی بھی وبا تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ذیابیطس ایک تو موروثی ہوتی ہے اور ایک ٹائپ ون، ٹائپ ون میں پنکریاز انسولین بالکل نہیں بنا پاتا، جس کا علاج ہی انسولین لگانا ہے، تو اس صورت میں ذیابیطس ختم نہیں ہو سکتی، ہاں اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

دوران حمل خواتین کو ذیابطیس لاحق ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر حسن محمد نے کہا کہ اگر شوگر کا مرض صرف حمل کے دوران ظاہر ہوا ہے تو وضع حمل کے بعد یہ ختم ہو جاتا ہے، لیکن ان خواتین کو اگلے 5 سے 10 برسوں میں ذیابیطس لاحق ہونے کا پچاس فی صد خطرہ ہوتا ہے، اس لیے ان کو اپنے لائف اسٹائل کا خیال رکھنے کی شدید ضرورت ہوتی ہے، خوراک میں احتیاط کریں، وزن کم رکھیں، اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔

واضح رہے کہ پہلے لوگ 40 کے بعد ذیابیطس میں مبتلا ہو رہے تھے، پھر 30 سال میں اور اب 20 سال سے بھی کم عمر میں لوگ مبتلا ہو رہے ہیں، اس لیے اپنے طرز زندگی کو صحت مند رکھنا ہی اس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں