تازہ ترین

صدر آصف زرداری آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے

اسلام آباد : صدر آصف زرداری آج پارلیمنٹ کے...

پاکستانیوں نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا، میتھیو ملر

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے کہا ہے...

فیض حمید پر الزامات کی تحقیقات کیلیے انکوائری کمیٹی قائم

اسلام آباد: سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی...

افغانستان سے دراندازی کی کوشش میں 7 دہشتگرد مارے گئے

راولپنڈی: اسپن کئی میں پاک افغان بارڈر سے دراندازی...

‘ سعودی وفد کا دورہ: پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی’

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے...

تنہائی پسند افراد کو شوگر کا مرض لاحق ہوسکتا ہے، ماہرین

ایمسٹرڈیم: ہالینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تنہائی پسند افراد میں دیگر کی نسبت شوگر کا مرض پھیلنے کے زیادہ خطرات موجود ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کے ماہرین نے بڑھتے ہوئے ذیابیطس کے مرض کی وجوہات تلاش کیں جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اکیلے رہنے والے یا تنہائی پسند افراد کو شوگر کی بیماری لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ میل جول رکھنے والے افراد میں شوگر کا مرض پھیلنے کے خطرات نسبتاً کم ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ذیابیطس کا وبا کی صورت پھیلاؤ

واضح رہے کہ شوگر کے مرض کی روک تھام اور اس بیماری کے پھیلنے کے حوالے سے کئی تحقیقات کی گئیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین نے ذیابیطس کے مرض پھیلنے کی وجہ سماجی کیفیت کو قرار دیا ہے۔

شوگر بیماری کیا ہے؟

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو تیزی سے عام ہورہی ہے۔ یہ جسم میں کئی دوسری بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ جب ہمارے جسم میں موجود لبلبہ درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دے اور زیادہ مقدار میں انسولین پیدا نہ کر سکے، تو ہماری غذا میں موجود شکر ہضم نہیں ہو پاتی۔ یہ شکر ہمارے جسم میں ذخیرہ ہوتی رہتی ہے نتیجتاً ذیابیطس یا شوگر جیسی خطرناک بیماری جنم لیتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق نامناسب طرز زندگی اور فاسٹ فوڈ کا بڑھتا استعمال اس مرض میں اضافے کا سبب ہے۔ ذیابیطس دل، خون کی نالیوں، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور دیگر اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ ذیابیطس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ روز مرہ زندگی میں متوازن غذا کا استعمال کیا جائے اور ورزش کو معمول بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: فوری توجہ کی متقاضی ذیابیطس کی 8 علامات

ذیابیطس کا شکار اکثر افراد کو اس بیماری کا علم نہیں ہو پاتا تاہم جب اس کا علم ہوتا ہے تو مرض بہت بڑھ چکا ہوتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

- Advertisement -