برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ، ایک اور وزیر مستعفی Brexit
The news is by your side.

Advertisement

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ، ایک اور وزیر مستعفی

لندن: برطانوی کی یورپی یونین سے علیحدگی کے اعلان کے بعد برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، بورس جانسن کے بعد ایک اور برطانوی وزیر مستعفی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے وزیر مملکت برائے دفاع جوٹو بیب نے بھی وزارت کے عہدے سے استعفی دے دیا، بیب کی جانب سے استعفیٰ کسٹم سے متعلق بل میں ترمیم کے خلاف رائے شماری پر دیا گیا۔

بل میں ترمیم کے خلاف رائے شماری برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے منصوبے کا حصہ ہے، وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ یہ قانون بریگزٹ کے بعد برطانیہ کو یورپی یونین کی مصنوعات پر کسٹم ٹیکس لاگو کرنے سے روک دے گا، گزشتہ روز برطانوی پارلیمنٹ میں ترمیم کے حق میں ہونے والی رائے شماری میں معمولی اکثریت کے ساتھ ترمیم منظور کرلی گئی تھی۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے کے لیے مقرر کردہ وزیر ڈیوڈ ڈیوس اور سابق وزیر خارجہ بورس جانسن بھی برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی بریگزٹ کے بعد یورپی یونین سے مضبوط اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے پر بطور احتجاج استعفی دے چکے ہیں۔

بورس جانسن کے استعفیٰ کے بعد برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے جیریمی ہنٹ کو برطانیہ کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا تھا۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے عوام نے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا، اب برطانیہ کو یورپی یونین سے انخلاء کے عمل کو 29 مارچ 2019 تک مکمل کرنا ہے تاہم یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے لائحہ عمل پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں