تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

2 ہزار عادی غیر حاضر ٹیچرز کی برطرفی کے لیے کارروائی شروع

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے 2 ہزار عادی غیر حاضر ٹیچرز کی برطرفی کا فیصلہ کر لیا ہے، غیر فعال اسکولوں کی فعالیت اور تدریسی اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر اساتذہ کی بھرتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

آج پیر کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کا اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف کیڈرز کے دو ہزار عادی غیر حاضر ٹیچرز کی برطرفی اور غیر فعال اسکولوں کی فعالیت اور تدریسی اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر اساتذہ کی بھرتی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں بلوچستان کی شرح تعلیم میں اضافے، اساتذہ کی حاضری، بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت سرکاری تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل و مشکلات کا جائزہ لیا گیا اور مجموعی صورت حال اور کارکردگی کو بہتر بنانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان دو ماہ کے اندر اندر عادی غیر حاضر ٹیچرز کی برطرفی کی کارروائی مکمل کریں گے، سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے اسکولوں میں مرحلہ وار بائیو میٹرک سسٹم نصب ہوگا، جس کو متعلقہ تعلیمی ادارے کا سربراہ ہر صورت بحال رکھے گا، بائیو میٹرک سسٹم میں کسی بھی قسم کی خرابی کا ذمہ دار اسکول سربراہ ہوگا، ابتدائی طور پر بائیو میٹرک کے اس پائلٹ پروجیکٹ کی شروعات ضلع ڈیرہ بگٹی اور ضلع موسیٰ خیل سے کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ مقامی تعلیمی افسران کو جواب دہ اوراساتذہ کو ڈیوٹی کا پابند بنانے کے لیے مقامی بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کو بھی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپس میں شامل کیا جائے، انھوں نے کہا کہ معیاری تعلیم سے ہی آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل وابستہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں واضح کیا کہ محکمہ تعلیم کو ہر قسم کی غیر ضروری مداخلت سے پاک کیا جائے گا، افسران اور تدریسی سربراہان کی تقرری میرٹ پر ہوگی، کوئی سیاسی دباؤ خاطر میں نہیں لایا جائے گا، اور سیکرٹری سے لے کر ایک ماتحت تک کو عملی کارکردگی دکھانی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا اب میں بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کے اسکولوں کے اچانک دورے بھی کروں گا، انھوں نے کہا نان فنکشنل اسکولوں کی اصطلاح کو مزید واضح کرنا ہوگا، غیر فعال اسکولوں سے مراد صرف وہ اسکول نہیں جہاں ٹیچرز، سپورٹنگ اسٹاف یا بچے نہیں ہیں، بلکہ نان فنکشنل میں ان اسکولوں کو بھی شمار کیا جائے جہاں ایس این ای کے مطابق آسامیاں بھی ہیں، استاد اور ماتحت اسٹاف تنخواہیں بھی لے رہے ہیں، تاہم اسکولوں کی عمارتیں وڈیروں اور بااثر افراد کے نجی استعمال میں ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 80 ہزار سرکاری اساتذہ ہیں، 7 ہزار سنگل روم اسکول ہیں، مجموعی طور پر 3300 نان فنکشنل اسکولوں کی نشان دہی ہوئی ہے، 5 ہزار اٹیچ اساتذہ کو ان کی اصل جائے تعیناتیوں پر بھیج دیا گیا ہے جس کی بدولت 729 غیر فعال اسکول فعال ہو گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے گلوبل پارٹنر شپ سے 23 ملین ڈالر کا پانچ سالہ معاہدہ بھی طے پاچکا ہے۔

Comments

- Advertisement -