The news is by your side.

Advertisement

جڑواں بچے ایک جیسی خصوصیات رکھتے ہیں؟ نئی تحقیق

جڑواں بچے ایک جیسی خصوصیات رکھتے، ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے رہتے ، یہ بات تحقیق میں کسی حد تک درست ثابت ہوئی ہے۔

جڑواں بچوں کے حوالے سے کئی باتیں دنیا میں مشہور ہیں اور اسی حوالے سے کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ جڑواں افراد میں سے کسی کے ساتھ کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسی موقع پر اس کے جڑواں کو بھی وہی خوشی یا تکلیف پہنچتی ہے اگر کسی کے درد ہوتا ہے تو جڑواں بھی وہی درد محسوس کرتا ہے، لیکن اب یہ باتیں صرف مفروضوں اور فلمی کہانیوں تک محدود نہیں رہیں۔

تحقیق نے کسی حد تک ثابت کردیا ہے کہ جڑواں بچے ایک جیسی شخصی خصوصیات رکھتے ہیں اور ان کے دماغ میں اتنی ہم آہنگی ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے درد کو لاشعوری طور پر محسوس کرتے ہیں۔

ایڈن برگ اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی میں بھی ’جڑواں لوگوں کی شخصیت ایک جیسی ہوتی ہے‘؟ کے حوالے سے تحقیق کی گئی۔

اس تحقیق میں تقریباْ 800 جڑواں جوڑے ایک جیسی شخصی خصوصیات کے حامل پائے گئے، ان میں ظاہری مشابہت کے ساتھ ساتھ شخصی مشابہت بھی پائی گئی لیکن کچھ کیسز میں اگر ان کی علیحدہ علیحدہ پرورش کی گئی تو ہلکا پھلکا فرق بھی پیدا ہوگیا۔

محققین کے مطابق یہ بات تھیوری نیچر اور نرچر کو تھوڑا بہت سپورٹ کرتی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق نیچر یا فطرت ہمیں اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملتی ہے جبکہ نرچر یا پرورش کا تعلق ہمارے ماحول سے ہوتا ہے، ہم اپنے ماحول سے سیکھتے اور پیدائش کے بعد ہماری شخصیت کا اہم حصہ ہماری زندگی کے تجربات ہوتے ہیں۔

ہماری شخصیت نیچر اور نرچر کا ملاپ ہوتی ہے جیسے غصہ آپ کے ماحول سے آتا ہے کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابا یا دادا پر پڑا ہے وہ بھی اتنے ہی غصے والے تھے۔

یونیورسٹی آف کمبرلینڈ کی ویب سائٹ کے مطابق محققین نے ایک طویل عرصے کی تحقیق کے بعد نتائج اخذ کیے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق جڑواں بچوں کے دماغ میں اتنی ہم آہنگی ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے درد کو لاشعوری طور پر محسوس کرتے ہیں جیسے کہ ایک بھائی کا سائیکل سے ایکسیڈنٹ ہوگیا اور اسکا ہاتھ ٹوٹ گیا جب وہ گھر آیا تو اس کے جڑواں بھائی کا ہاتھ بھی اسی جگہ سے سوجا پایا وہ بھی بغیر کسی وجہ کے یا ایک آدمی نے دل میں درد محسوس کیا تو عین اسی وقت دوسرے بھائی کو بھی ویسا ہی درد محسوس ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں