The news is by your side.

Advertisement

کیا مچھر سے بھی کورونا پھیلتا ہے؟

مچھر ملیریا، ڈینگی اور چکن گونیا جیسے کئی خطرات امراض پھیلانے کا سبب بنتے ہیں لیکن اگر ایک مچھر کسی کورونا کے شکار مریض کو کاٹ لے تو کیا کسی دوسرے شخص کو بھی وائرس منتقل ہوسکتا ہے؟

اس کے جواب میں عالمی ادارہ صحت نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک کسی تحقیق میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ مچھر کورونا وائرس کو پھیلا سکتا ہے۔

کورونا وائرس بنیادی طور پر تب دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے جب کوئی متاثرہ شخص بغیر ماسک پہنے کھانسے، چھینکے، بولے یا سانس لے تو اس کے منہ یا ناک سے نکلنے والے ذرات میں موجود وائرس کسی دوسرے کے جسم میں منہ، ناک یا آنکھوں کے راستے سے داخل ہوسکتا ہے۔

نیو یارک کے اسکول آف گلوبل پبلک ہیلتھ کے اسسٹنٹ پروفیسر یسم توزان بتاتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے کہ ایک مچھر وائرس سے متاثرہ کسی ذرّے کو نگل لے، جو اس کے معدے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اگر یہ وائرس مچھر کے اندر بھی خود کو پھیلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ مچھر کے سر میں پہنچ سکتا ہے۔ اگر وائرس مچھر کے تھوک کے غدود اور تھوک میں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے، تبھی اُس کے کاٹنے پر وائرس انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔

آسان الفاظ میں کہیں تو یہ کہ وائرس کو مچھر کے ہاضمے کے نظام میں زندہ رہنا ہوگا، وہیں پر پھیلنا بھی ہوگا اور آنتوں سے نکل کر اس کے تھوک کے غدود تک پہنچنا ہوگا۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اب تک کسی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ کورونا سمیت کوئی بھی سارس وائرس ایسا نہیں کر پایا۔ مچھر کے اندر جدید کرونا وائرس کے وائرس پھیل نہیں سکتے، اس لیے چاہے مچھر کسی وائرس زدہ شخص ہی کو کاٹ ہی کیوں نہ لے، تب بھی کسی دوسرے شخص کو کاٹنے کی صورت میں اس میں وائرس منتقل نہیں ہو سکتا۔

نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونورسٹی میں اینٹومولوجی اور پلانٹ ہیتھولوجی کے پروفیسر کوبی شال کے مطابق کرونا وائرس علاوہ دیگر وائرس مچھر کے اندر نشو و نما نہیں پا سکتے اور اگر وہ اس کے کاٹنے سے منتقل بھی ہو جائے تو اس کا وائرل لوڈ اتنا معمولی ہوگا کہ اس سے کسی کو یہ مرض منتقل ہونے کا خطرہ نہیں۔

انسانی خون میں کورونا کی سطح اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔ جبکہ مچھروں سے ہونے والی عام بیماریاں جیسا کہ ڈينگی وغیرہ انسانی خون میں ہوتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں