The news is by your side.

Advertisement

سگ گزیدگی واقعات: سندھ ہائی کورٹ نے ارکان اسمبلی کو خبردار کردیا

سکھر: سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ غریبوں کے بچوں کو کتے کاٹ رہے ہیں اور ایم پی ایز ووٹ لے کر کراچی میں آرام سے بیٹھے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں صوبے میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر سما عت ہوئی، سماعت کے موقع پر عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ سندھ میں کتا ما ر مہم کے دوران اب تک ایک لاکھ دس ہزار کتے ما رے جاچکے ہیں۔

جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ جب عدالت نے حکم دیا تھا تو ایم پی ایز کیوں کتا مار مہم کی نگرانی نہیں کررہے ہیں ہم ایم پی ایز کو معطل کرنے کے احکامات بھی دے سکتے ہیں اور لاڑکانہ ، خیرپور، جامشورو اور رتوڈیرو کے تو ایم پی ایز کو معطل ہی کیوں نہ کردیں۔

جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شفیع محمد چانڈیو نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایم پی ایز کا کام کتے مارنا نہیں قانون سازی کرنا ہے جس پر عدالت نے ان سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں ان ایم پی ایز نے کیا قانون سازی کی ہے ایم پی ایز کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی حفاظت کریں کیا ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ووٹ لے کر کراچی جا کر بیٹھ جائیں یہاں غریب لوگوں کے بچوں کو کتے کا ٹ رہے ہیں مگر ان کو اس کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کتے مار مہم کی نگرانی کون کرینگے؟، سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

ایک بچی کو کتے نے کاٹا تو اس کی آنکھ ضا ئع ہوگئی کیا اس کی آنکھ واپس آسکتی ہے؟ اس موقع پر عدالت میں موجود سیکریٹری بلدیات سندھ نے اعتراف کیا کہ سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں جس پر ججز نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ پھر ان واقعات کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے اور جو کتے ما ر دیئے جا تے ہیں وہ سڑکوں پر پھینک دیئے جا تے ہیں۔

جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے اپنے ریمارکس میں بھی کہا کہ آنے والے فنڈز کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں، عدالت میں سماعت کے موقع پر مختلف اضلاع کے پولیس افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں کتے کے کاٹنے کے واقعات کے حوالے سے درج مقدمات کی تفصیلی رپوٹس عدالت میں پیش کیں جس کے بعد عدالت نے پٹیشن پر سماعت اکتیس مارچ تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں