The news is by your side.

Advertisement

گھر سے دفتری امور سر انجام دینا فائدہ مند یا نقصان دہ، حیران کن انکشاف

ورک فار ہوم کے فوائد کے ساتھ نقصانات زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے کاروباری حضرات کو پروڈکشن، رابطے اور جدت میں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔

یہ انکشاف اسٹیل کیس کی جاری ایک تحقیقاتی سروے رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں دس ممالک کے افراد نے حصّہ لیا، جس میں 32 ہزار بھارتی شہری بھی شامل ہیں، انہوں نے سروے میں بتایا کہ گھر سے کام کرنے (ورک فروم ہوم) کے کچھ فائدے ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ کئی چیلنج بھی ہیں۔

اس سروے میں ملازم، بزنس لیڈرس اور ریئل اسٹیٹ سے متعلق فیصلہ کرنے والے بھی شامل تھے جو لاکھوں کام کرنے والوں کی نمائندگی کرتے ہیں کا کہنا تھا کہ 41 فیصد گھر سے کام کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ وہ گھر سے کام کرکے غیر مطمئین ہیں۔

ملازمین اور کاروباری افراد کا کہنا تھا کہ گھر سے کام کرنے میں پروڈکشن اور رابطے کا فقدان پیدا ہورہا ہے اور کام سے مکمل ربط اور پروڈکشن کی صورتحال میں بھی تقریباً 16 سے 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سروے رپورٹ میں گھر سے کام کرنے یہ فائدے بتائے گئے ہیں کہ صحت اور فٹنیس کےلیے زیادہ وقت ملتا ہے اور فوکس بہتر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب ایک تہائی سے زیادہ لوگوں نے گھر سے کام کرنے کا تجربہ برا بتایا، ان کا کہنا ہے کہ اس سے الگ تھلگ رہنے کا جذبہ پیدا ہوگیا تھا جس سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر 26.4 فیصد، کام کی رفتار پر 21.7 فیصد اور کام اور زندگی کے درمیان توازن پر 20.4 فیصد اثر پڑا۔

تحقیقاتی سروے رپورٹ میں لوگوں کی تعداد 90 فیصد ایسی ہے جو اپنے ملازمین کو تفصیلی متبادل دینا چاہتے ہیں اور وہ کہاں سے کام کرنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ وہ انہی پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔

اس مطالعے میں دیکھا گیا ہے کہ 61 فیصد ملازمین نے پیشہ ور ماحول میں کام کرنے، 56 فیصد نے اداروں سے پھر سے جڑنے اور 49 فیصد نے ورکرس سے کنیکٹ ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں