site
stats
سندھ

وزیر اعظم اور وزیرداخلہ اعترافی بیانات کی ویڈیوز کا جواب دیں، فاروق ستار

کراچی : ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ جو ویڈیوز منظر عام پر لائی جارہی ہیں اس سے ایم کیوایم کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ وزیر اعظم نوازشریف اوروزیرداخلہ کوان باتوں کے جواب دینا چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہا ہے کہ 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف پہلا باقاعدہ ریاستی آپریشن ،جبر اور تشدد کا سلسلہ شروع ہواتھا اور اس کا مقصد ایم کیوایم کو تقسیم کرنا ، کمزور کرنا اور دیوار سے لگانا تھا ۔

انہوں نے کہاکہ پونے تین سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے ۔ انہو ں نے کہاکہ کراچی آپریشن کو پونے تین سال ہوگئے ہیں اتنے عرصے کے بعد ہمارا بھی یہ سوال ہے کہ مطلوب سے مطلوب اور غیر مطلوب سے مطلوب کیسے ہوجاتے ہیں ۔

انہو ں نے واضح الفاظ میں کہا کہ الطاف حسین اور ان کے نظریاتی ساتھی ہی اصلی ہیں باقی سب نقلی ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں 19جون 1992ء کے شہداء کی 24ویں برسی کے موقع پر منعقدہ قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کے اجتماع کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین امین الحق ، محفوظ یار خان ، زاہد منصوری ، محمدکمال ملک بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ خالد شمیم، منہاج قاضی ، صولت مرزا اورڈاکٹر عاصم کی جو ویڈیو آرہی ہے اس سے کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا نہ ہی متحدہ کے قائد  سے عوام کو گمراہ کیاجاسکے گا اور اس میں نقصان ان کا ہوگا جنہوں نے زبردستی ویڈیو بنائی ہیں ۔

یہ دوستانہ مشورہ ہے کہ ایسے کاموں سے ہمارے اداروں ، وفاقی حکومت ، آئی بی کو اجتناب کرنا چاہئے ، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ کو ان سوالوں کے جواب دینا چاہئے کہ ویڈیو ریکارڈبیان کہاں سے آئے ، کس نے بنائے کیونکہ یہ غیر قانونی اور غیرآئینی قدم ہے جن لوگوں نے یہ اقدام کیا ہے ان کی انکوائری کی جائے اور تادیبی کاروائی کی جائے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ کراچی آپریشن کو پونے تین سال ہوگئے ہیں ، اتنے عرصے کے بعد ہمارا بھی یہ سوال ہے کہ مطلوب سے مطلوب اور غیر مطلوب سے مطلوب کیسے ہوجاتے ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ یا کوئی نہ کوئی اس کا جواب تلاش کریں ۔

انہوں نے کہاکہ کراچی آپریشن کے بعد آل پارٹی کانفرنس میں یہ طے ہوا تھا کہ اس کی اونر شپ عوام کو دی جائے گی تو کیا کوئی کمیونٹی کو شامل کرنے کی کوئی بات ہوئی ، سندھ پولیس کو سیاست سے باہر لانے کی بات جو کی گئی تھی اس پر عمل کیا گیا ، اس پر ٹاک شوز میں بات ہونا چاہئے اور حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کو ان سوالوں کے جواب دینا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ کل جب باہمی اتحاد سے رینجرز کے اختیارات واپس لئے جائیں گے تو کیا سندھ پولیس اس کیلئے تیار ہے اس کیلئے اس پر کوئی کام نہیں کرہا ہے ، کپتان بھی سو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے اور پونے سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینا چاہئے کہ لوگوں میں اس سے محبتیں پیدا ہوئی ہیں یا نفرتیں پیدا ہوئی ہیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top