The news is by your side.

تجارتی خسارہ کیسے کم کیا جائے؟ سابق وزیر خزانہ نے بتادیا

کراچی: سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے نہ صرف معیشت نہیں پورے ملک کونقصان ہورہا ہےاب مختلف حکمت عملی بنانی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے موجودہ حالات پر اے آر وائی نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرحفیظ پاشا نے کہا کہ
آج کا دن دو ہزار اٹھارہ سےمختلف ہے،قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکاہے،اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو معاشی مسائل سےنکالنےکیلئے مختلف حکمت عملی بنانی ہوگی۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ جب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18سے20ارب ڈالرہوتو معیشت کیسے سنبھلےگی؟ قرضوں کے جال سےنکلنےکا ایک ہی راستہ ہے کہ ہمیں ری اسٹرکچرنگ کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: اوپیک پلس کا تیل کی موجودہ پیداوار کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار پانچ ماہ سے جاری سیاسی کشمکش کے باعث ملک کو بہت نقصان ہورہا ہے،ترسیلات زر18فیصد اورسرمایہ کاری 80فیصدگرچکی، معیشت سے متعلق سخت اقدامات نہ ہونے کی بڑی وجہ سیاسی قیمت کا خوف ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ اسحاق ڈارنے بطور وزیرخزانہ روپے کی قدرمستحکم رکھی، انہوں نے زیادہ درآمدات سےچھ فیصد جی ڈی پی گروتھ کی، اسحاق ڈارکی اس پالیسی سےنقصان یہ ہوا کہ تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں