The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس: سزایافتہ مجرموں نے عدالتی فیصلہ چیلنج کردیا

اسلام آباد : ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ، جس میں کہا گیا کہ عدالت 18 جون کےاسپیشل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی گئی ، اپیل تینوں مجرموں خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی کی جانب سے دائر کی گئی۔

اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ18 جون کے اسپیشل کورٹ کاحکم کالعدم قرار دے ، جس کے بعد ریاست اور انسپکٹر ایف آئی اے فریق اور رجسٹرار آفس نےاپیل وصول کرلی ہے۔

مزید پڑھیں: 10 سال بعد ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ، تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا

یاد رہے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں انسدادی دہشت گردی کی عدالت نے تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ، عدالت نے قتل کی سازش، معاونت اورسہولت کاری کیس پر فیصلہ دیا تھا۔

عدالت نے بانی متحدہ اور افتخار حسین ، اشتہاری ملزمان محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔

خیال رہے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس میں اعترافی بیان ریکارڈ کرانے والے خالد شمیم اورمحسن علی بیان سے مکر گئے تھے، دونوں گرفتار ملزمان نے 5سال قبل مجسٹریٹ کواعترافی بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔

واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا، حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں