The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر ماہا کیس کی تفتیش مکمل، 2 ملزمان گرفتار، مقدمہ درج

کراچی: ڈیفنس میں ڈاکٹر ماہا علی شاہ کی مبینہ خود کشی کے کیس میں گزشتہ 4 روز سے جاری تفتیش مکمل ہو گئی، ماہا علی کو پستول فراہم کرنے کے الزام میں 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈیفنس کے علاقے میں مبینہ طور پر خود کشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کو پستول فراہم کرنے کے الزام میں 2 ملزمان گرفتار کر لیے گئے، جن کے خلاف سرکار کی مدعیت میں گزری تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں سندھ آرمز ایکٹ اور 109 کی دفعات لگائی گئی ہیں، اسلحہ سعد کے نام پر تھا، تابش نے ڈاکٹر ماہا کو اسلحہ گولیوں سمیت دیا، تابش ماہا کا دوست تھا، اس نے اپنے دوست سعد سے اسلحہ لیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ شیراز نذیر نے میڈیا کو بتایا کہ نائن ایم ایم پستول ایک شہری سعد صدیقی کی تھی جو مانگنے پر تابش قریشی نے ماہا کو دی، دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ڈاکٹر ماہا نے خود کشی کیوں کی، متعلقہ کرداروں سے تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا نجی اسپتال کی ڈیوٹی سے واپس آئی تو پریشان تھی، ماہا اپنی بہن کے ساتھ کمرے میں تھی، والد بھی اسی کمرے میں آیا، ڈاکٹر ماہا بہانے سے باتھ روم گئی اور وہاں خود کو گولی مار دی۔

ڈاکٹر ماہا کیس میں اہم پیش رفت، پستول کے اصل مالک نے اہم معلومات دے دیں

ایس ایس پی شیراز نذیر کے مطابق ڈاکٹر ماہا نے باتھ روم میں خود کشی کی، گولی دیوار میں پیوست ہوئی تھی جس کے ثبوت بھی حاصل کر لیے گئے ہیں، گولی کی آواز سن کر والد بھاگا اور بیٹی کے ساتھ مل کر باتھ روم کا دروازہ توڑا، والد نے مددگار 15 کو فون کیا اور ایک قریبی عزیز ڈاکٹر زہرہ کو فون کر کے بلوایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی کو واقعے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا کیوں کہ وہ ابھی زندہ تھی، جہاں علاج کے دوران وہ چل بسی۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی شاہ شدید پریشانی کا شکار تھی، خود کشی کی باتیں کرتی تھی، تاہم اس نے خود کشی کیوں کی، یہ جاننے کے لیے متعلقہ کرداروں سے تفتیش جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں