The news is by your side.

Advertisement

عرب ممالک کی ہر دلعزیز شخصیت ڈاکٹر محمد المشالی خالق حقیقی سے جاملے

قاہرہ : مصر کے معروف مسیحا اور ہر دلعزیز شخصیت ڈاکٹر محمد المشالی خالق حقیقی سے جاملے، انہوں نے زندگی بھر غریبوں اور ناداروں کے بے لوث خدمت کی۔

تفصیلات کے مطابق مصر میں غریبوں کے مسیحا ڈاکٹر محمد المشالی چل بسے، وہ اپنے پیچھے بے شمار غریب مصریوں کے یہاں انمول یادوں کا اثاثہ چھوڑ گئے ہیں۔ مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مشالی کی موت کی اطلاع مصر اور سعودی عرب ہی نہیں بلکہ کئی عرب ملکوں میں ٹرینڈ بن گئی۔

محمد مشالی نے زندگی بھر غریبوں اور ناداروں کے بے لوث خدمت کی۔ ان کا ایک جملہ ناداروں کے حلقوں میں بڑا مشہور ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ’مجھے لاکھوں پاونڈ سے کوئی سروکار نہیں نہ مجھے دس ہزار پاونڈ مطلوب ہیں۔ ایک سینڈوچ سے گزارا ہوجاتا ہے بس اتنا کافی ہے۔

محمد مشالی غریبوں میں بہت مقبول تھے۔ اہل مصر انہیں طبیب الغلابہ یعنی (لاچاروں کے ڈاکٹر) کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔
محمد مشالی کا معمول تھا کہ وہ اول تو بغیر فیس لیے مریضوں کا طبی معائنہ کیا کرتے تھے۔ اگر کسی سے فیس لیتے تو وہ بھی علامتی ہوتی تھی۔
دنیا سے محمد مشالی کی بے رغبتی کا محرک کیا تھا؟

بتایا جاتا ہے کہ محمد مشالی کے والد نے انہیں وصیت کی تھی کہ غریبوں کی مدد کرتے رہنا۔ انہوں نے اپنے بیٹے محمد مشالی کے نام وصیت نامہ بھی چھوڑا تھا۔

محمد مشالی عربی ادب کے بابا ’طہ حسین‘ کی شہرہ آفاق تصنیف المعذبون فی الارض (دنیا کے ستائے ہوئے) سے متاثر تھے، طہ حسین کی اس کتاب میں غریبوں خاص طور پر بیمار اور ناداروں کی دیکھ بھال کا ذکر ہے۔ محمد المشالی نے زندگی بھر طحہ حسین کی اس بات کی پابندی کی۔

محمد مشالی کی زندگی پر ذیابیطس میں مبتلا اس بچے کا بھی بڑا اثر تھا جب مشالی نے اس کی ماں سے بچے کے لیے دوا خریدنے کی بات کہی تو ماں نے جواب دیا کہ میرے پاس انجکشن خریدنے کی سکت نہیں ہے۔ اگر میں نے اس کے لیے انجکشن خریدا تو میرے دوسرے بچے بھوک سے مر جائیں گے۔

محمد مشالی کہتے تھے کہ بیمار بچے نے جب اپنی ماں کے منہ سے یہ جملہ سنا تو اس نے اپنی ماں کو علاج کی تکلیف سے بچانے کے لیے خود سوزی کر لی۔

محمد مشالی کہتے تھے کہ اس واقعہ نے مجھ پر بڑا اثر ڈالا۔ اسی وجہ سے میں غریبوں کا مفت علاج کرکے خوشی محسوس کرتا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں