The news is by your side.

Advertisement

راحت اندوری “دو گز زمیں” کے مالک بن گئے

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا
دو گز سہی مگر یہ مِری ملکیت تو ہے
اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کردیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول بھارت میں اردو زبان کے شاعر راحت اندوری اپنے لاکھوں مداحوں کو روتا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سوئے۔

ڈاکٹر راحت اندوری بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کا کوررونا ٹیسٹ مثبت آنے کے ایک دن بعد انتقال ہوگیا تھا، ان کی عمر 70سال تھی۔

راحت اندوری کو کورونا وائرس کے سبب سانس لینے میں دشواری کے پیش نظر اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا اور وہیں حرکتِ قلب بند ہو جانے کے سبب وہ خالق حقیقی سے جاملے، ان کے علاج پر مامور ڈاکٹر ونود بھنڈاری نے میڈیا کو بتایا کہ منگل کے روز انہیں دوسری بار دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

یکم جنوری 1950 کو بھارت میں پیدا ہونے والے راحت اندوری پیشے کے اعتبار سے اردو ادب کے پروفیسر رہ چکے ہیں بعد ازاں آپ نے کئی بھارتی ٹی وی شوز میں بھی حصہ لیا۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے بھارت کے مشہور شاعر نے غزلوں کے علاوہ بالی ووڈ کی فلموں کے لیے متعددگیت بھی لکھے بلکہ گلوکاری کے کئی شوز میں بطور جج حصہ بھی لیا۔ بالی وڈ کی مشہور فلم ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘اور دیگر فلموں کے گیت راحت اندوری نے ہی قلم بند کیے تھے۔

راحت اندوری کے کلام میں یہ خاص بات ہے کہ وہ ہر خاص وعام میں یکساں مقبول ہے وہ ہر اہم موضوع کو اپنے شعروں میں ڈھال کر بہت سلیقے، خوبصورتی اور منفرد انداز کے ساتھ سامعین کے سامنے پیش کرتے تھے۔

انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی تھی کہ پانچ سو سال بعد کا ادب انہیں کس طرح یاد رکھے گا، وہ لمحہ موجود میں جیتے تھے اور اپنی شاعری کے موضوعات آس پاس کے واقعات سے اٹھاتے تھے۔

اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

ایک سنجیدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نوجوان نسل کی نبض تھامنا خوب جانتے تھے۔ اس کی ایک مثال ہے ان کی نظم ” بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں “جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

بلاتی ہے مگر جانے کا نئیں
یہ دنیا ہے ادھر جانے کا نئیں

میرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نئیں

ستارے نوچ کر لے جاوں گا
میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئیں

وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے
مگر ظالم سے ڈر جانے کا نئیں

حالات حاضرہ پہ کہنا ہو یا مزاحیہ شاعری کے ذریعے لوگوں کو محظوظ کرنا ہو، ان کے الفاظ پر پورا مجمع ایک دم واہ واہ کی صداؤں سے گونج اٹھتا تھا۔

بھارت میں گائے کے ذبیحہ پر عدالتی پابندی کے بعد راحت اندوری کا کہنا تھا کہ

کوئی کیا سوچتا رہتا ہے میرے بارے میں
یہ خیال آتے ہی ہمسائے سے ڈر لگتا ہے

نئے خوف کا جنگل ہیں میرے چاروں طرف
اب مجھے شیر نہیں گائے سے ڈر لگتا ہے

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

گھروں کے دھنستے ہوئے منظروں میں رکھے ہیں
بہُت سے لوگ یہاں مقبروں میں رکھے ہیں
ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں۔

عام طور پر راحت اندوری کو نئی پوت بطور شاعر ہی پہچانتی ہے، انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائیں جو اُن کے فنی سفر ، تلفظ اور گلوکاری میں معاون ثابت ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں