اب دھرناہوگا توآخری دھرناہوگا، علامہ طاہرالقادری -
The news is by your side.

Advertisement

اب دھرناہوگا توآخری دھرناہوگا، علامہ طاہرالقادری

لاہور : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اب دھرنا ہوگا توآخری دھرنا ہوگا، نوازشریف بددیانتی لوٹ مار کا نام ہے ، سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اسی جےآئی ٹی کو ماڈل ٹاؤن کا کیس بھی دے دو، میری تقریر سن لی ہے تو امید ہےآپ جی ٹی روڈ پر تماشا منسوخ کردینگے۔

تفصیلات کے مطابق عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ناصر باغ جلسے میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اظہار یکجہتی کیلئے آنے والوں کا شکر گزار ہوں، اللہ نے سخت دھوپ اور تپش کو دور کیا ہے، ایک شخص اقتدار سے برطرف ہوا اور پوچھتا ہے میرا قصور کیا ہے۔

طاہرالقادری نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں 17جون 2014کو 14بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرائی گئیں، پوچھتا ہوں ماڈل ٹاؤن میں 14افراد کو قتل کیا گیا ان کا قصور کیا تھا، اللہ کے ہاں انصاف ہے، دیر ہوسکتی ہے اندھیر نہیں، آپ لوگوں نے ظلم کی انتہا کر دی تھی، خون کو پانی سمجھ لیا تھا، درندگی کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرائیں۔

درندگی کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرائیں

انکا کہنا تھا کہ جسٹس باقرنجفی کا کمیشن بنایا اور کہا انگلی میری طرف اٹھی تو مستعفی ہوں گا، جسٹس باقر نجفی کمیشن میں کہا گیا ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کرانے والاشہباز شریف تھا،آپ نے کمیشن کی رپورٹ دبا دی۔

طاہر القادری نے مزید کہا کہ اللہ کی طرف مواخذےاور انتقام کاوقت آگیا ہے، ڈیڑھ سال تک آپ کوبےگناہی ثابت کرنےکاموقع دیاگیا، آپ کےخاندان کےایک ایک فرد کو صفائی کے لیے بلایا گیا، بتاؤلوٹ مارنہیں توپیسہ کہاں سےبنایاگیاتھا، آپ کو273دن صفائی کا موقع دیا گی۔

انھوں نے کہا آپ نےہرجگہ خطاب کیا،آپ نےجھوٹ بولا قوم کو دھوکا دیا، آپ پارلیمنٹ کےفلور پر جھوٹ بولتے رہے، سپریم کورٹ میں بھی جھوٹ بولا،جعلی دستاویزات بنائے، آپ جعلی ترمیم شدہ دستاویزات پیش کرتے رہے، آپ نے جعلی قطری خط پیش کیا۔ جعلی دستاویزات جمع کرانے پر سپریم کورٹ7سال کی قیدسزا دیتی ہے، سپریم کورٹ نے نرمی برتی ورنہ آپ کو وہیں ہتھکڑی لگ سکتی تھی۔

سپریم کورٹ نے کہا آپ صادق اورامین نہیں رہے،نااہل قراردیا

عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے صرف آپ کو بددیانت قراردیا، سپریم کورٹ نے کہا آپ صادق اورامین نہیں رہے،نااہل قراردیا، شکراداکریں سپریم کورٹ نے جیل نہیں بھیجا، سپریم کورٹ کے5ججز آپ کو جھوٹا اور بددیانت کہتے ہیں ، آپ کو شرم ہوتی تو سر جھکا کر گھربیٹھ جاتے، منہ چھپانے کے بجائے جی ٹی روڈپراحتجاج کاسوچ رہے ہیں۔

طاہرالقادری نے کہا کہ جس آزاد عدلیہ کیلئے تحریک چلائی اسی نے فیصلہ دیا، جمہوریت مینڈیٹ کا اس سے بڑھ کر حیا کیا ہوگی، آپ کے نااہل ہونے کے باوجود جس پر اشارہ کیا وہ وزیراعظم بنا، آپ کی اسمبلیاں نہیں توڑیں نہ ہی حکمرانی کا حق چھینا، نئی حکومت بنانےکی اجازت دی اس سے بڑھ کر جمہوری مینڈیٹ کیا ہوگا، سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے پھر کہتے ہیں جمہوریت نہیں ہے۔

نوازشریف آج ایک گالی اورملک کو بردباد کرنےکا نام ہے

انکا کہنا تھا کہ رائیونڈ والے اقتدار پر بیٹھیں تو جمہوریت ہے ، پارٹی کی حکومت ہوتو جمہوریت نہیں رائیونڈ والے اقتدار میں ہوتو جمہوریت ہے، نوازشریف بددیانتی لوٹ مار کا نام ہے، کہتے ہیں جو دلوں میں ہے، اسی کی  حکومت ہے تو دلوں میں بیٹھ کر حکومت کرلو، پاکستان کی جان چھوڑ دو دلوں میں حکومت کرلو۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے مزید کہا کہ  نوازشریف آج ایک گالی اورملک کو بردباد کرنےکا نام ہے، نوازشریف کیخلاف 90کی دہائی میں فیصلہ آنے والا تھا ،سپریم کورٹ پر حملہ کرادیا، نوازشریف کیخلاف فیصلہ آیا نہیں تھا، آنے والا تھا، سپریم کورٹ کو توڑ دیا۔

ہم تین سال سے 14لاشیں کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں

انکا کہنا تھا کہ  ہم تین سال سے 14لاشیں کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ، تم انسانیت اور معصوم بیٹیوں کے قاتل ہو، باقرنجفی کمیشن کی رپورٹ پر ہماری ہائی کورٹ میں پٹیشن موجود ہے، باقرنجفی کمیشن کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کی درخواست دی ہے، آپ نے 14قتل کرکے ہمارا حق ہمیں نہیں دیا، دھکے کھاتے پھر رہےہیں،  ہم عدل اور انصاف کے لئے دھکے کھارہےہیں۔

پاناما جےآئی ٹی کو ماڈل ٹاؤن کا کیس بھی دے دو

طاہر القادری نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اسی جےآئی ٹی کو ماڈل ٹاؤن کا کیس بھی دے دو، کا کیس بھی دے دو، پوری عمر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں گزری ، ہم نے امن اور قانون کا راستہ نہیں چھوڑا ، براہ راست بدلہ لیتے تو وقت کے فرعونوں  کی بوٹیاں کرادیتے، ہم نے قانون اور امن کا راستہ نہیں چھوڑا۔


مزید پڑھیں : طاہر القادری کا پہلا جلسہ‘ سیاسی قائدین کا خطاب


انھوں نے کہا کہ  آپ نے ہمارے امن اور قانون کےراستے کو کمزوری سمجھا ہے، ہماری پٹیشن عدالت میں ہے سماعت نہیں ہورہی، سپریم کورٹ آپ کو بری کردیتی تو میں جی ٹی روڈ پر احتجاج نہیں کرتا، آپ ملک میں کسی قانون کو نہیں ماننے والے ، ہر شہ کو خریدنے والے سے نجات نہ دلائی تو ملک برباد ہوجائیگا۔

عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چور گیا قاتل  باہر بیٹھا ہے ، ماڈل ٹاؤن کیس میں 126ملزمان کو سمن جاری ہوئے ،ایک بھی جیل میں نہیں، کسی کو ضمانت بھی نہ کرانی پڑی کیا اسے قانون کہتے ہیں، 114 لوگوں کو گولیاں ماری گئیں 14 شہید ہوگئے، پورے میڈیا نے آپ کی بربریت دکھائی، قتل کرانے والوں کو طلب نہیں کیاگیا ، کیا جمہوریت اس کا نام ہے اقتدار میں بیٹھ کر جو چاہیں کریں؟

میری تقریر سن لی ہے تو امید ہےآپ جی ٹی روڈ پر تماشا منسوخ کردینگے

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اللہ کی لاٹھی آئی ہے ،آپ کو جواب دینا ہوگا، میری تقریر سن لی ہے تو امید ہےآپ جی ٹی روڈ پر تماشا منسوخ کردینگے، ڈھٹائی کی انتہا ہے، آج آپ کو تخت لاہور نے مسترد کردی ہے، عوام کہتے ہیں چور پکڑا گیا ہے قاتل پکڑا جائے، شہیدوں کا خون آپ کو نہیں چھوڑے گا، اس ملک میں ہر روز غریبوں کا قتل ہوتا ہے ، دیت کے نام پر خون بکتے ہیں ،عزتیں بکتی ہیں۔

غریبوں کے خون پر کسی نے سودے بازی کی تو قبر میں بھی معاف نہیں کروں گا

سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون مظلوم کو انصاف دلانے کی طاقت نہیں رکھتا، اعلیٰ عدلیہ 14 لوگوں کےقاتلوں سے پردہ اٹھائے ، نہ یہ ڈریں ہیں نہ یہ جھکیں ہیں نہ یہ بکے ہیں ،تمہاری دولت ٹھکرادی، لڑوں گا آخری وقت تک ،انصاف نہ بھی ملا تو خدا کی عدالت میں ملے گا، انصاف لینے کےلئےزندگی کی آخری سانس تک لڑوں گا، غریبوں کے خون پر کسی نے سودے بازی کی تو قبر میں بھی معاف نہیں کروں گا۔

انھوں نے نواز اور شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نواز،شہبازشریف صاحب آپ کو قانون،جمہوریت کی بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، ہمارا مقدمہ درج نہیں کیا گیا آپ قانون کی بات کرتے ہو، اس وقت کے آرمی چیف کی مداخلت پر مقدمہ درج ہوا، وہ ایف آئی آر ابھی تک کٹی پڑی ہے ، انصاف کی بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔

آپ سیاسی اور معاشی ، نظریاتی اور مذہبی دہشت گرد بھی ہیں

انکا کہنا تھا کہ قوم ملک میں چوروں ،ڈاکوؤں کا راج نہیں رہنےدے گی ، اگر آپ نے قتل نہیں کرایا تو کمیشن کی رپورٹ شائع کیوں نہیں کرتے، اگر آپ قاتل نہیں تو ڈر کس چیز کا ہے، کیا قومی اداروں کو یہ سب نظر نہیں آرہا، ایک شخص جیل میں نہیں گیا اسے ترقی مل گئی ، یہ کیسی جمہویت ہے یہ ڈاکہ زنی ہے،  آپ سیاسی اور معاشی دہشت گرد ہیں۔

طاہر القادری نے کہا کہ آپ نے پورے سیاسی نظام کو بےضمیر کررکھا ہے ، کالعدم تنظیمیں آپ کی سرپرستی کے سائے میں ہیں، ایک ایک دہشتگردتنظیم رائیونڈ کے ٹکڑوں پر پلتی ہیں، آپ دہشتگردوں کو پنجاب میں پناہ دیتے ہیں، آپ نے کبھی اسپتال بننے نہیں دیا ایک پائی خرچ نہیں کی ، کیاجمہوریت سلطنت شریفیہ کا نام ہے۔

سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ  آرٹیکل63،62 میں نے 2013 میں پڑھایا تھا ، آرٹیکل63،62 کا4سال پہلے جوسبق پڑھایاوہ بول پڑا۔

کیا آپ نوازشریف کا جی ٹی روڈ پر پرامن استقبال کریں گے؟ طاہر القادری کا کارکنان سے سوال

طاہر القادری نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ تیاری کے ساتھ آئے ہو کھانا پینے کا سامان لائے ہو، شامیانوں اور بستروں کا بندوبست کرلیں گے، نوازشریف کا جی ٹی روڈ پر پرامن استقبال کریں گے ، نوازشریف کے سامنے 14لاشیں رکھیں گے ، ایک پتہ نہ ہی ایک پتہ ٹوٹے گاکسی کو پتھر نہیں لگے گا، نوازشریف کو 14لاشوں کا تحفہ دینے کیلئے پرامن بیٹھو ں گے، نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ پہلے ہوچکا تھا میرے رب نے کیا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے برطرف اور لٹکنے کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے، قوم کو بتانا چاہتا ہوں ان میں ایک زہر ہے ، ن لیگ ضیا الحق نے بنائی تھی، کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں آپ کی پرورش ماشل لا کی ہے، پاک فوج کا نام لینا چاہتے ہیں کھل کر کہیں ، ہمارے احتجاج کو کہتے تے ہم سی پیک ختم کرناچاہتے ہیں ، آپ احتجاج کریں تو جائز ہم کریں تو ناجائز یہ کیسا پیمانہ ہے ، آپ کو چند دنوں کےلئے ٹھہراؤں؟

جب دھرنا دیں گے تو آخری دھرنا ہوگا

طاہرالقادری نے کہا کہ انتظامیہ ،پولیس سے کہتا ہوں یہ مجمع میری طاقت سے باہر نکل رہا ہے، فیصلہ ایک ہی بار سناؤں گا پھر پیچھے نہیں ہٹوں گا ، دھرنے کا فیصلہ کیا تو اسلام آباد کی طرح پر امن ہوگا ، خون خرابا نہیں ہوگا ، املاک اوردرختوں کا ایک پتہ نہیں ٹوٹے گا، نواز،شہبازشریف انصاف کے راستے کھول دو ،صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے۔

سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو کھلا چھوڑ دیا تو تمہارا کچھ نہیں بچے گا ، تحریک قصاص کا پہلامرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا،
دھرنے میں پیدا ہونیوالے بھی آج نعرہ لگاتےہیں، جب دھرنا دیں گے تو آخری دھرنا ہوگا، امید کرتا ہوں ہمارے دھرنے سے پہلے ان کے اقتدارکاخاتمہ ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں