The news is by your side.

Advertisement

ایک کروڑ بچوں کو ٹائیفائیڈ ویکسین دینے جا رہے ہیں، ظفر مرزا

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا  کا کہنا ہے کہ  پاکستان دنیا میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی نئی ویکسین متعارف کروانے والا پہلا ملک بن گیا، ٹائیفائیڈ میں اضافے کے باعث ویکسین کے استعمال کا فیصلہ کیا، ایک کروڑ بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق  وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹائیفائیڈ میں اضافے کے باعث ویکسین کے استعمال کا فیصلہ کیا، مہم کے دوران ایک کروڑ بچوں کو ویکسین دینی ہے ، پاکستان دنیا میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی نئی ویکسین متعارف کروانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے اقدام میں ٹائیفائیڈ شامل نہیں، کوشش کررہے ہیں کہ ٹائیفائیڈ کی ویکسین کو معمول کا حصہ بنالیا جائے،  عام طور پر ویکسین 5 سال تک بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاتی ہے، عالمی اداروں کی مشاورت سے 5 سال کی بعد کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ  عالمی طور پر صحت کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج درپیش ہے، عالمی طور پر اینٹی بائیوٹک غیر مؤثر ہوتی جارہی ہیں، جن بیماریوں کے خلاف اینٹی بائیوٹک غیر مؤثر ہو رہی ہے، ان میں ٹائیفائیڈ شامل ہے، عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تصدیق شدہ یہ ویکسین جنوبی سندھ میں حفاظتی ٹیکوں کی دو ہفتوں پر مشتمل مہم میں استعمال کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹائیفائیڈ کے مریضوں پر پرانی ویکسین اثر انداز نہیں ہورہی تھی، اس لئے نئی ویکسین متعارف کروائی گئی، گندے پانی اور ناقص صفائی کے باعث بیماریاں پھیل رہی ہیں، ٹائیفائیڈ گندے پانی کی وجہ سے پھیلتا ہے، اس حوالے سے توجہ دینے کی ضرورت ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اینٹی بائیوٹک تجویز کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں : ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچوں کو ٹائیفائیڈ کے ٹیکے لگیں گے

خیال رہے ملک میں پہلی انسداد ٹائیفائڈ مہم کا آغاز آج سے ہورہا ہے ، مہم 30 نومبر تک جاری رہے گی، اس کے دوران 9 ماہ سے 15 سال تک کے بچوں کو انسداد ٹائیفائیڈ ویکسین دی جائے گی۔

حکومتِ پاکستان نے یہ نئی ویکسین ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ذریعے منظور کروائی ہے اور یہ ویکسین صوبہ سندھ میں دو ہفتوں کی حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے دوران استعمال کی جائے گی کیونکہ صوبہ سندھ میں 2017 کے بعد سے اب تک ٹائیفائیڈ کے 10,000 کیسز درج کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں