The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی شہری کی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کی دھمکی

ابوظبی : اماراتی پولیس نے تاجک خاتون کو دوران سفر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم پاکستانی ڈرائیور کو عدالت میں پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارت کی ریاست دبئی کی عدالت میں گزشتہ روز تاجک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کیس کی سماعت ہوئی جس میں پولیس ملزم پاکستانی ڈرائیور کو بھی پیش کیا۔

عدالت میں دوران سماعت جج کو بتایا گیا کہ 27 سالہ پاکستانی ڈرائیور نے رواں برس اپریل میں خالی بس میں 24 سالہ تاجک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ متاثرہ خاتون دبئی کے علاقے ڈیرہ سے بس میں سوار ہوئی تھی جو دبئی مال میں سیلز گرل کی ملازمت کرتی ہے۔ ملزم نے کچھ دیر سفر کے بعد بس مسجد کے قریب صحرائی علاقے روکی اور جرم کا ارتکاب کرنے سے قبل نماز پڑھنے مسجد میں چلا گیا۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ ملزم پانچ منٹ بعد والس آیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ بس ایک ریتلے علاقے میں روکی اور خاتون سے مکروہ فعل کی انجام دہی کا تقاضہ کیا، متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’میں انکار کرتے ہوئے مدد کے لیے چیخنے لگی لیکن اس نے اپنے ہاتھ سے میرا منہ دبایا‘۔

متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے میرا منہ دبانے کے بعد مجھے دھمکی دی کہ خاموش نہ ہوئیں تو اپنے دوستوں سے بھی ریپ کراؤں گا۔

اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ملزم نے خاتون کو ریپ سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی ڈرائیور نے مجھے کہا اگر تم نے اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی تو تمہاری جان بھی جاسکتی ہے، جس پر رد عمل دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ’میں اس حادثے کا کسی کو نہیں بتاؤں گی‘۔

اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون نے گھر پہنچنے کے بعد اپنے عزیز کو واقعے سے آگاہ کیا اور پولیس اسٹیشن میں جنسی زیادتی کی رپورٹ درج کروائی۔

گلف نیوز کا کہنا ہے کہ ملزم نے عدالت کے سامنے جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کردیا، جس کے بعد جج نے عدالت کی کارروائی 23 جون تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں