The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں فیس بک پیج کے ذریعے آئس کی خریدو فروخت کا انکشاف

کراچی : شہر قائد میں موت کے سوداگر فیسس بک پیج کے ذریعے اس ملک کے مستقبل کے معماروں میں آئس نامی نشہ فروخت کرنے لگے، زیر حراست ملزمان نے سنسنی خیز انکشافات کردیے۔

تفصیلات کے مطابق اس بات کا انکشاف ضلع جنوبی کے سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس ( ایس ایس پی ) شیراز نظیر نے میڈیا بریفنگ میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے ممبران کی گرفتاری کے بعد ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں کیا۔

ایس ایس پی شیراز نظیر نے انکشاف کیاتھا کہ منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان اپنے لیے گاہک تلاش کرنے ، رقم کی ادائیگی اور مال پہنچانے کے لیے جدید ذرائع اختیار کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی میں ملوث گروہ کے کچھ ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے ، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں، جو کسی زمانے میں ایک اسکول میں ٹیچنگ کیا کرتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئس کے حصول کے لیے رقم آن لائن منتقل کی جاتی ہے جو کہ بلوچستان میں وصول ہوتی ہے، بلوچستان کے شہر حب سے چلنے والے منشیات کےاس نیٹ ورک کے مرکزی کردار خالد رئیسی اور مطیع الرحمان ہیں۔

فیس بک پیج کی مدد سے گاہکوں کو تلاش کیا جاتا ہے ، انہیں خالص مال پہنچانے کا یقین دلایا جاتا ہے ، اور ادائیگی کے بعدآن لائن بتایا جاتا ہے کہ فلاں دکان کے پیچھے سے منشیات اٹھالو۔کبھی کبھار منشیات پتھروں کے نیچے بھی چھپا کر دی جاتی ہے۔

زیر حراست ملزمان میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ اسکول میں ٹیچنگ کرتی تھی ، برے دوستوں کی صحبت کے سبب منشیات کی لت لگ گئی، جسے پورا کرنے کے لیے اس نے اس گینگ میں شمولیت اختیار کی ۔

ایس ایس پی ضلع جنوب کے مطابق یہ ملزمان کراچی کے فارم ہاؤسز اور ہاکس بے پر منشیات دیتے ہیں، آئس نامی یہ نشہ اکثر پرائیویٹ پارٹیز میں بھی سپلائی کیا جاتا ہے۔ ملزمان نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ آئس کے قیمت کے بدلے چوری کی گاڑی بھی قبول کرلی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی چوریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی رواں ماہ مئی میں کراچی کے علاقے بہادر آباد سے تعلیمی اداروں میں آئس نشہ فروخت کرنے والا 15 رکنی گروہ گرفتار کیا گیا تھا ، ملزمان میں ایم کیو ایم کی خاتون کونسلر بھی شامل تھیں۔ گرفتار خاتون ملزمہ نارتھ ناظم آباد یوسی 21 کی کونسلر اور خود بھی آئس نشے کی عادی تھی۔

پولیس کے مطابق ملزمان اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات فروخت کرتے تھے، گروہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ٹریپ کرتا تھا ان کی ویڈیو بناتا اور بلیک میل کرتا تھا۔

رواں ماہ 2 جولائی کو انسدادِ منشیات فورس نے کراچی میں ایک کارروائی کے دوران 18 کلو گرام منشیات پکڑی، یہ منشیات فیصل آباد سے کراچی اسمگل کی گئی تھی۔

کے پی پولیس نے بھی افغانستان سے پاکستان آئس منشیات کا دھندا کرنے والا عالمی نیٹ ورک رواں ماہ پکڑا تھا۔گرفتار کیے گئے 12 اسمگلرز سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات بر آمد ہوئی تھی، پولیس کے مطابق عالمی اسمگلروں کی گرفتاری حساس اداروں کی مدد سے عمل میں لائی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں