The news is by your side.

Advertisement

کرکٹ کے شعبے سے افسوسناک خبر، اہم شخصیت کا انتقال

لندن: کرکٹ کے ڈک ورتھ لوئس قانون کے بانی ٹونی لوئس 78 برس کی عمر میں دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈک ورتھ لوئس (ڈی ایل) میتھڈ کے بانی نے 1992 میں قانون متعارف کرایا جو آج بھی نافذ العمل ہے۔

ٹونی لوئس کافی عرصے سے علیل تھے، وہ جمعرات کے روز دنیا سے کوچ کرگئے جس کی اُن کے اہل خانہ نے بھی تصدیق کردی۔

انٹرنیشنل کرکٹ بورڈ (آئی سی سی) اور انگلش کرکٹ بورڈ نے ٹونی لوئس کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے اظہار کیا۔

ڈک ورتھ لوئس میتھڈ پہلی بار کب استعمال ہوا؟

سنہ 1992 کے ورلڈکپ کا سیمی فائنل جنوبی افریقا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے مابین جاری تھا، انگلینڈ کی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے 13 گیندوں پر 22 رنز درکار تھے کہ اسی دوران بارش ہوگئی جس کی وجہ سے کھیل روکنا پڑا اور اُس وقت کے قوانین کے مطابق جنوبی افریقا کو جیت کے لیے ایک گیند پر 21 رنز کا ہدف دیا گیا یوں افریقی ٹیم ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی۔

اس صورت حال کے بعد ٹونی لوئس اور فرینک ڈک ورتھ نے بارش سے متاثرہ میچز کے لیے قانون متعارف کرایا جسے بعد میں ڈک ورتھ لوئس کا باقاعدہ نام دیا گیا۔

ڈی ایل میتھڈ کےقانون پر عمل درآمد 1997 میں زمبابوے اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے میچ میں ہوا اور پھر آئی سی سی نے 1999 سے باضابطہ اس قانون کی منظوری دی۔

بارش سے متاثرہ میچز کے لیے بنائے گئے قانون کا نام پہلے ڈی ایل رکھا گیا تھا اور یہ ٹیسٹ میچز یا پچاس اوورز کے میچز کے لیے ہی تھا، بعد ازاں 2014 سے شروع ہونے والے ٹی ٹوینٹی میچز میں بھی اس قانون کو لاگو کیا گیا۔

مختصر اوورز کے فارمیٹ کے لیے جب قانون منظور ہوا تو معروف حساب دان اسٹیوا اسٹرن نے ڈی ایل میتھڈ میں چند ترامیم بھی کیں۔

سلطنتِ برطانیہ نے کرکٹ اور حساب میں شعبے میں گراں قدر خدمات دینے پر ٹونی لوئس کو 2010 میں ممبر آف برٹس امپائر کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں