The news is by your side.

Advertisement

ای سگریٹ کا بڑا نقصان سامنے آگیا

الیکٹرانک سگریٹ عام سگریٹ کے مقابلے میں دس گنا خطرناک ہے، تاہم اس کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس سے روایتی تمباکو نوشی کو ترک کیا جاسکتا ہے، کیا واقعی ایسا ہے؟ جانئے شاہ سعود یونیورسٹی کے ماہر پروفیسر کی اہم گفتگو۔

سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے نمائندے سے گفتگو میں شاہ سعود یونیورسٹی میں سینے اور نظام تنفس کے امراض کے ماہر پروفیس ڈاکٹر احمد سالم نے بتایا کہ اس وقت تقریباً پانچ ہزار قسم کے ای سگریٹس رائج ہیں جبکہ ای سگریٹس کے سات ہزار سے زیادہ فلیورز بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر احمد سالم نے بتایا کہ ای سگریٹ تیار کرنے والے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں کو یہ کہہ کر پیش کررہے ہیں کہ ان کے استعمال کا کوئی نقصان نہیں، ان کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ای سگریٹ سے روایتی سگریٹ کی لت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر احمد سالم نے توجہ دلائی کہ ای سگریٹ کے بارے میں یہ دعویٰ کہ اس کے استعمال سے روایتی سگریٹ ترک کرنے میں مدد ملتی ہے غلط ہے، کیونکہ ’اس حوالے سے کوئی علمی دلیل اس کے حق میں نہیں، جو لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ مشاہدے پر مبنی مطالعات کے بل پر اس قسم کی باتیں کررہے ہیں۔ اصل مقصد ای سگریٹ کو رائج کرکے بس پیسے کمانا ہے۔

شاہ سعود یونیورسٹی میں سینے اور نظام تنفس کے امراض کے ماہر پروفیس ڈاکٹر احمد سالم نے بتایا کہ آسٹریلیا میں میڈیکل ریسرچ اینڈ نیشنل ہیلتھ کونسل اور عالمی ادارہ صحت کا متفقہ خیال ہے کہ ای سگریٹ استعمال کرنے والے تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ نکوٹین سے خالی ای سگریٹ نوشی اور اس میں موجود مصنوعی فلیورز سے دل اور تنفس کے نظام پر برا اثر پڑتا ہے

اور ان سے مضر صحت زہریلے مادے پیدا ہونے لگتے ہیں جبکہ روایتی سگریٹ نوشی کے جو نقصانات ہیں ویسے ہی ای سگریٹ سے بھی نقصانات ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ جاپان کے طبی ماہرین کے مطابق الیکٹرانک سگریٹ عام سگریٹ کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں شامل کارسینوجن نامی مادہ عام سگریٹ کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ سرطان جیسے موذی مرض کو انسانی جسم میں پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے الیکٹرانک سگریٹ کو نوجوانوں کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں