The news is by your side.

Advertisement

ہوشیار !! کان کا میل صاف کرنا خطرناک ہوسکتا ہے

اکثر لوگ اپنے کان کی صفائی کیلئے روئی کی تیلیوں یا کسی بھی چیز کا استعمال کرتے ہیں جو انتہائی رسکی اور خطرناک عمل ہے، ذرا سی بھی بےاحتیاطی ہمیں قوت سماعت سے محروم کرسکتی ہے۔

اس طریقے سے صفائی ہونا تو دور کی بات الٹا ہم اپنے کانوں کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کچھ معاملات میں لمبے عرصے تک کان کے درد کی شکایت بھی سامنے آجائے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ماہر امراض ناک کان گلا ڈاکٹر عاطف حفیظ نے بتایا کہ کان کے میل کی شکایت80فیصد افراد مین نہیں ہوتی صرف 20فئیصد ایسے لوگ ہیں جو اس مسئلے کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قدرت نے کان کی صفائی ازخود نظام قائم کر رکھا ہے، کان کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ اس کے اندر پانی نہیں جاسکتا، جس طرح ناک اور منہ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح کان میں نمی ہونا بھی ضروری ہے جوق اس میں پہلے سے موجود ہے۔ لہٰذا کان صاف کرنے کیلئے روئی کی تیلیوں کو زیادہ اندر لے جانا درست نہیں۔

کان کی تنگ نالی مختلف چیزوں کو ڈالنے کے لیے نہیں بنی،بلاشبہ صفائی ایک نیکی ہے لیکن صفائی کرنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے آپ کے کانوں میں موجود تھوڑا سا چرک گوش ( یعنی کان کا میل) کانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث نہیں بن سکتا کیوں کہ یہ ایک قدرتی چیز ہے اور یہ چیز کچھ مقاصد کے لیے کارآمد ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں