The news is by your side.

Advertisement

زمین کا درجہ حرارت اب سے ڈیڑھ لاکھ سال قبل جیسا

اگر آپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح کلائمٹ چینج پر یقین نہیں رکھتے، اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف ایک وہم ہے تو پھر سائنس میگزین کی یہ رپورٹ آپ کے ہوش اڑانے کے لیے کافی ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں اس قدر اضافہ آج سے ڈیڑھ لاکھ سال قبل دیکھا گیا تھا۔

میگزین میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ زمین اور سمندروں کے درجہ حرارت میں اس قدر اضافہ اب سے ڈیڑھ لاکھ سال قبل دیکھا گیا تھا، اس کے بعد کبھی اتنا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ اس وقت زمین پر انسانوں کی آمد کو 50 ہزار سال سے زائد کا کچھ عرصہ گزرا تھا۔

ماہرین کے مطابق زمین کے درجہ حرارت کے ساتھ سمندروں کا درجہ حرارت بھی اہمیت رکھتا ہے جو اس وقت بہت بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ سال قبل کے اس دور کو زمین کا گرم ترین دور مانا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج سے مطابقت کیسے کی جائے؟

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج ہے جو بہت تیزی سے رونما ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل امریکا کے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیریک ایڈمنسٹریشن نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا کہ سال 2016 تاریخ کا متواتر تیسرا گرم ترین سال تھا۔ اس سے قبل سنہ 2014 اور 2015 میں بھی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا۔

نواا کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ 5 بار ٹوٹ چکا ہے۔ سنہ 2005، سنہ 2010، اور اس کے بعد متواتر گزشتہ تینوں سال سنہ 2014، سنہ 2015 اور سنہ 2016۔

ماہرین کے مطابق گو کہ یہ اضافہ نہایت معمولی سا ہے تاہم مجموعی طور پر یہ خاصی اہمیت رکھتا ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلائمٹ چینج کس قدر تیزی سے رونما ہورہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں