site
stats
بزنس

ملکی معیشت کو بحالی کے باوجود سنگین خطرات لا حق ہیں، آئی پی آر

economy

اسلام آباد : تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز (آئی پی آر) نے مالی سال 2017- 18 کی پہلی سہ ماہی پر بیرونی قرضوں کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت بحالی کے باوجود سنگین خطرات سے دو چار ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گرے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز (آئی پی آر) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کے اندر معاشی ترقی زیادہ تر مینوفیکچرنگ اور زراعت میں ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں ٹیکس ریونیو اور پبلک فنانس بھی بہترین رہے لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود ملک کے اندر بیرونی سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کا 4.4 فیصد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پچھلے سال اسی دورانیہ کے نسبت 120 فیصد زیادہ ہے، بہت زیادہ بیرونی قرضہ لینے کے باوجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گرے ہیں۔

حکومت اس سلسلے میں دعویٰ کرتی ہے کہ یہ خسارہ مشینری کی درآمدات کی وجہ سے ہے جبکہ مالی سال2017-18کی پہلی سہ ماہی میں مشینری کی درآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہو اہے، نیز بجلی پیدا کرنے کے آلات میں بھی17فیصد کمی ہوئی ہے۔


مزید پڑھیں: روپے کی قدرمیں کمی سے پاکستانی معیشت میں بہتری آئے گی، آئی ایم ایف


آئی پی آر کی رپورٹ میں حکومت کے بیرونی قرضوں پر سخت تنقید کی گئی ہے اور مستقبل کیلئے ان کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔ 

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top