The news is by your side.

Advertisement

بڑی خبر: الیکشن کمیشن کا پرانے طریقہ کار سے سینیٹ الیکشن کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن  سے  متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی رائے پر من و عن عمل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پرانے طریقہ کار سے سینیٹ الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت ہونے والے اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل218تین کےتحت شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ موصول ہوگیا ہے، سینیٹ انتخابات گزشتہ سالوں کی طرح خفیہ بیلٹ پیپر کےذریعے ہونگے، ایوان بالا کے انتخابات کو شفاف بنانے کیلئےتمام اقدامات کئےجائیں گے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ماضی کے طریقہ کار کے تحت ہی الیکشن منعقد کرے گا، سینیٹ الیکشن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کےلئےتین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اسپیشل سیکریٹری کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی چار ہفتےمیں رپورٹ دیگی، کمیٹی کو نادرا اور دیگر اداروں تک رسائی حاصل ہوگی۔

گذشتہ روز سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائےسامنے آئی تھی ، صدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل تھی۔

تحریری رائے میں کہا گیا تھا کہ سینیٹ الیکشن آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے تمام اقدامات کر سکتا ہے اور تمام ادارے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کاانعقاد آئین اور قانون کے تحت ہوتاہے جبکہ انتخابی عمل کوکرپٹ عمل سے تحفظ فراہم کرنابھی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خفیہ بیلٹ سے سینیٹ انتخابات : حکومتی وفد کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات

عدالت عظمیٰ نے نیاز احمد کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بیلٹ پیپر خفیہ ہونے کے تعلق پر نیاز احمد کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، نیاز احمد کیس میں واضح کیا گیا کہ بیلٹ پیپر کی سیکریسی حتمی نہیں، فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ جب ضرورت ہو تو خفیہ بیلٹ حتمی خفیہ نہیں رہ سکتا۔

سپریم کورٹ کی تحریری رائے کیساتھ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا تھا کہ صدر پاکستان کا ریفرنس 186 کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں