The news is by your side.

Advertisement

جانوروں کو قانونی حقوق دینے کیلئے عدالت عالیہ نے فیصلہ سنا دیا

جنوبی امریکی ملک ایکواڈور جانوروں قانونی حقوق دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا، جانوروں کے حق میں فیصلہ ایکواڈور کی عدالت عالیہ نے ایک بندریا کی موت کو وجہ بناکر سنایا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جانوروں سے بدسلوکی اور تشدد کے متعدد واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں، جس کے سدباب کےلیے جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں آواز بھی اٹھاتی رہتی ہیں مگر کسی بھی ملک میں کوئی مؤثر اقدام حکومتی سطح پر عمل میں نہیں آیا۔

تاہم جنوبی امریکی ملک ایکواڈور نے یہ انقلابی قدم اٹھایا اور جانوروں کو قانونی حقوق دے دئیے، ایکواڈور حکام کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کو وہ حقوق ملیں جس کے وہ حقدار ہیں تاکہ وہ بھی آزادی سے زندگی گزار سکیں۔

یہ اقدام ایکواڈور کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک ایسے مقدمے کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اٹھایا ہے جس میں ایک بندریا اسٹریلیٹا کا ذکر تھا جسے اس کے گھر سے چڑیا گھر لے جایا گیا جہاں وہ صرف ایک ہفتے بعد انتقال کر گئی۔

واضح رہے کہ اسٹریلیٹا ایک ماہ کی تھی جب ایک لائبریرین نے اسے جنگل سے گھر لیجاکر پالتو جانور کی طرح پالا مگر انتظامیہ کو علم ہونے پر بندریا کو گھر سے چڑیا گھر منتقل کردیا۔

چونکہ وہ 18 برس سے گھر میں مقیم تھی، چڑیا گھر منتقل ہونے کے 1 ہفتے بعد ہی انتقال کرگئی، جس پر مالک نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے بندریا کے حق میں فیصلہ سنایا۔

خیال رہے کہ ایکواڈور میں جنگلی جانوروں کی ملکیت غیرقانونی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں