The news is by your side.

Advertisement

نہر سوئز میں پھنسے والے بحری جہاز کیخلاف مصری عدالت کا بڑا فیصلہ

قاہرہ : مصر کی نہر سوئز میں پھنس کر ٹریفک روکنے والے بحری جہاز کو مصر کی عدالت نے ملک سے باہر جانے سے روکتے ہوئے ایورگرین کی مالک کمپنی کی اپیل خارج کردی۔

مصر کی ایک عدالت نے دیوہیکل بحری جہاز ایورگرین کے مالک کی اپیل خارج کر دی ہے جس میں جہاز کو حوالے کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

غیر ملکی خبر  رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوئز کینال کو ایک ہفتے تک بند رکھنے والے بحری جہاز کی مالک کمپنی اور مصر کے حکام کے درمیان نقصان کے ازالے پر تنازعے کے بعد کنٹینرشپ کو روک لیا گیا تھا۔

سوئز کینال اتھارٹی نے کہا ہے کہ بحری جہاز کو اس وقت تک مصر چھوڑنے نہیں دیا جائے گا جب تک اس کی مالک جاپانی کمپنی شوی کیسن کائیشا لمیٹڈ کے ساتھ ہرجانے کی رقم پر تصفیہ نہ ہو جائے۔

نہر سوئز کے شہر اسماعیلیہ میں ایک عدالت نے بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف جہاز کی مالک کمپنی نے اپیل دائر کی تھی اور امید ظاہر کی تھی کہ فیصلے کو ختم کر دیا جائے گا۔ منگل کو اسماعیلیہ کی اکنامک کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اے ایف پی کے مطابق بحری جہاز کی مالک کمپنی کی جانب سے فوری طور فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔ ایور گرین شپ کی انشورنس کمپنی یو کے کلب نے کہا ہے کہ سوئز کینال اتھارٹی نے ہرجانے کے طور پر 916 ملین ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق ہرجانے کی رقم میں شپ کو نکالنے کے اخراجات، نہر میں ٹریفک بند ہونے سے ٹرانزٹ فیس کی مد میں ہونے والا نقصان بھی شامل ہے۔

گذشتہ ہفتے شوئی کیسن کائیشا لمیٹڈ نے کہا تھا کہ اس کے سوئز کینال اتھارٹی کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ ہرجانے کی رقم پر تصفیہ ہو سکے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ وہ شپ پر لدے 18 ہزار کنٹینرز کے مالکان سے بھی رابطے میں ہے تاکہ نقصان کے ازالے میں ان کو بھی شامل کیا جا سکے۔ کمپنی نے اس کی تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے کہ انشورنس کمپنی کتنی رقم ادا کرے گی اور کنٹینرز کے مالکان سے کتنی رقم ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ایور گرین نامی جہاز مصر کی سوئز نہر سے گزرتے ہوئے توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نہر میں ہی پھنس گیا تھا۔ نہر سوئز 193 کلومیٹر طویل اور 205 میٹر چوڑی ہے جبکہ اس میں پھنسنے والا جہاز ایور گرین400میٹر لمبا اور60 میٹر چوڑا تھا۔

یاد رہے کہ دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل اس گزرگاہ کی چھ روزہ بندش سے سامان کی عالمی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی اور اس نہر کے محصولات پر بھاری انحصار کرنے والی مصر کی حکومت کو خاطر خواہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں