The news is by your side.

Advertisement

مصر میں جاسوسی کے شبہے میں روبوٹ خاتون گرفتار

قاہرہ: مصر میں جاسوسی کے شبہے میں ایک آرٹسٹ خاتون روبوٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق دو ہفتے قبل ایک خصوصی نمائش کے لیے قاہرہ پہنچنے والی خاتون آرٹسٹ روبوٹ اے-ڈا (Ai-Da) کو کسٹمز حکام نے حراست میں لے لیا، کیوں کہ انھیں شبہ تھا کہ اس روبوٹ کو مصر کے خلاف جاسوسی میں استعمال کیا جائے گا۔

’اے-ڈا‘ بالکل کسی خاتون کی طرح نظر آنے والی ایک روبوٹ ہے، جو مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے، اپنے مشینی ہاتھوں سے تصویریں بنانے کے علاوہ مجسمہ سازی بھی کر سکتی ہے۔

اس روبوٹ کو ’مستقبل کے ایک وژن‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو اس دور کے دیگر تجریدی آرٹسٹس کی طرح ہر لحاظ سے اپنے کام میں اچھی ہے، لیکن اے ڈا جو کہ دنیا کی پہلی الٹرا رئیلسٹک روبوٹ آرٹسٹ ہے، نے اپنی تازہ ترین نمائش سے قبل اس وقت ایک عارضی رکاوٹ کا سامنا کیا جب مصری سیکیورٹی فورسز نے اسے 10 اکتوبر کو کسٹمز میں حراست میں لے لیا۔

تاہم برطانوی وزارتِ خارجہ کی مسلسل دس دن کی کوششوں کے بعد مصری حکام نے بالآخر اسے آزاد کر دیا اور یوں اگلے روز وہ مصوری کی نمائش میں اپنے فن پاروں کے ساتھ شریک ہوگئی۔

اے ڈا کی آنکھوں میں کیمرے لگائے گئے ہیں، جن کی وجہ سے سیکیورٹی کے خدشات کے باعث روبوٹ اور اس کے مجسمہ ساز کو کسٹمز میں 10 دنوں تک رکھا گیا، جس سے سفارتی جھگڑا بھی پیدا ہوا۔

اس روبوٹ کو مختلف برطانوی اداروں نے باہمی تعاون و اشتراک سے تیار کیا ہے تاکہ مصوری اور مجسمہ سازی جیسے پیچیدہ فنونِ لطیفہ بھی روبوٹس کی دسترس میں لائے جا سکیں، انیسویں صدی کی مشہور برطانوی ریاضی داں خاتون ایڈا لولیس کے نام پر اس روبوٹ کا نام ’اے-ڈا‘ رکھا گیا ہے۔

دراصل اے ڈا کو اہرام مصر کے سامنے مصوری کی پہلی نمائش میں حصہ لینا تھا جو 21 اکتوبر کو شروع ہوئی ہے، غزہ کے عظیم ہرم (ہرمِ خوفو) کے دامن میں یہ نمائش 7 نومبر تک جاری رہے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں