site
stats
خواتین

صنفی تفریق کو للکارتی مصر کی خواتین بائیکرز

قاہرہ: دنیا بھر میں جہاں خواتین ہر شعبہ میں آگے بڑھ رہی ہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں وہاں خواتین کی حدود کے حوالے سے بحثوں میں بھی شدت آرہی ہے۔

کچھ مخصوص ذہنیت کے حامل گروہ خواتین کی ترقی سے خوفزدہ ہو کر اس یقین کے پیروکار ہیں کہ خواتین کو صرف گھر میں رہنا چاہیئے۔ یا اگر وہ باہر نکلتی ہیں تو صرف کچھ مخصوص کام ہی ایسے ہیں جو خواتین کو انجام دینے چاہئیں۔

بائیک پر ایسا سفر جس نے زندگی بدل دی *

کچھ مغربی ممالک میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ کام کرنے والی خواتین کی تنخواہیں اتنی ہی ہونی چاہئیں جتنی مردوں کی ہیں۔ یہ امر بھی زیر بحث ہے کہ مختلف اداروں میں فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو شامل کیوں نہیں کیا جاتا۔

ہالی وڈ اداکارہ ایما واٹسن اسی سلسے میں ایک مہم ’ہی فار شی‘ کا آغاز کر چکی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی خود مختاری میں مرد سب سے بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک باپ اپنی بیٹی، ایک شوہر اپنی بیوی اور ایک باس ہی اپنی خاتوں ورکر کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔

این ہیتھ وے خواتین کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ شامل *

مصر میں خواتین کا ایسا ہی ایک گروہ بائیک چلا کر مردوں کی خود ساختہ عظمت اور بڑائی کو للکار رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں یہ خواتین بائیک چلانے کے دوران پیش آنے والے تجربات کے بارے میں بتا رہی ہیں۔

یہ گروپ ہر ہفتہ ایک دن ملک کے مختلف شہروں میں بائیک چلاتا ہے۔ ان کا مقصد صنفی تفریق کو ختم کرنا ہے۔

کلائمٹ چینج سے خواتین سب سے زیادہ متاثر *

گروپ میں شامل ایک خاتون کا کہنا ہے، ’مجھے بائیک چلانے میں کوئی عجیب بات نہں لگتی۔ نہ جانے لوگ لڑکیوں کے لیے اسے عجیب کیوں سمجھتے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ بائیک وزنی ہوتی ہے اور ایک طاقتور مرد ہی اسے چلا سکتا ہے‘۔

یہ تمام خواتین ہفتہ میں ایک دن کسی ایک جگہ پر جمع ہوتی ہیں اس کے بعد ایک ساتھ اپنا موٹر سائیکل کا سفر شروع کرتی ہیں۔

رنگوں سے نئے جہان تشکیل دینے والی مصورات کے فن پارے *

وہ چاہتی ہیں کہ خواتین اپنے روزمرہ کاموں کے لیے بھی بائیک کا استعمال کریں تاکہ خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں پیش آنے والی مشکلات سے بچا جا سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top