The news is by your side.

Advertisement

انتخابات 2020، ٹرمپ نے الیکشن میں کامیابی کےلیے انتخابی مہم کا آغاز کردیا

واشنگٹن :امریکا کے صدارتی انتخابات 2020 میں کسی بھی ڈیموکریٹ کو ووٹ دیناشدت پسندانہ سوشلزم کو پروان چڑھانے اورامریکی خواب کی تباہی کے مترادف ہوگا

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار صدارت کے لیے انتخابی مہم شروع کردی، ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں 20 ہزار حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے میڈیا نے پہلے بھی میرے خلاف خبریں چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ 2016ء میں انتخابات سے کچھ پہلے ایف بی آئی نے اوباما کو ممکنہ روسی مداخلت کا بتایا تو بارک اوباما نے کچھ نہیں کیا کیونکہ اُن کے خیال میں ہیلری کلنٹن جیت رہی تھیں۔

امریکی صدر نے خطاب کے دوران گذشتہ صدارتی مہم میں کیے گئے وعدوں کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر غیر قانونی امیگریشن، میڈیا اور سابقہ صدارتی حریف ہلری کلنٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صدر بن کر میں نے روس پر پابندیاں لگائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخالفین کے خلاف متعصابہ رویہ اختیار کرتے ہوئے وارننگ دی کہ 2020 میں ڈیموکریٹس ان سے ہار گئے تو کیا ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حریف جماعت ’ڈیموکریٹس‘ امریکہ میں شدت پسندانہ تبدیلیاں لے کر آئیں گے اور سرحد پار سے آنے والے تارکین وطن کے لیے قانونی چارا جوئی کریں گے تاکہ انتخابات میں ان سے ووٹ حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک قانون ماننے والے شہریوں کے لیے پناہ گاہ ہونا چاہیے نہ کہ غیر ملکی مجرموں کے لیے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ آپ کی عظیم مہم اور تاریخ کے سب سے عظیم انتخابات کی میراث کو مٹانے کی کوشش کررہے ہیں، یہ آپ کو ختم کردیں گے اور ہمارے ملک کو بھی توڑ دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات 2020 میں کسی بھی ڈیموکریٹ کو  ووٹ دیناشدت پسندانہ اور سوشلزم سوچ کو پروان چڑھانے اورامریکی خواب کی تباہی کے مترادف قرار دیا۔

مزید پڑھیں : آئندہ ہفتے صدارتی الیکشن میں شرکت کا باقاعدہ اعلان کروں گی، ہندو ایم پی تلسی گبّارڈ

خیال رہے کہ رابرٹ کے علاوہ سینیٹر برنی سینڈرز، سینیٹر الزبتھ وارن، سینیٹر کمالا حارث، ہندو رکن کانگریس تلسی گبارڈ اور انڈیانا کے میئر پیٹی بٹیگیگ بھی ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ 46 سالہ ڈیموکریٹ سیاست دان کو سنہ 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصّہ لینے سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کے دیگر امیدواروں کو پارٹی الیکشن میں شکست دینا ہوگی، جو صدارتی الیکیشن سے پہلے ہوں گے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ڈیموکریٹک کی جانب سے اب تک 19 امیدوار صدارتی انتخابات میں شامل ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں