spot_img

تازہ ترین

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے قرارداد قومی اسمبلی میں جمع

پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو رہا کرنے کی...

سینیٹ کے انتخابات 3 اپریل کو کرانے کا امکان

الیکشن کمیشن نے ایوان بالا (سینیٹ) کے عام انتخابات...

روسی صدر پیوٹن کی وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شہباز شریف کو...

امریکا وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ مشترکہ مفادات آگے بڑھانے کا خواہاں

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر...

امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے الیکشن سے متعلق بیانات پر دفتر خارجہ کا ردعمل

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات سے متعلق امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے بتانات پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے متعلق بعض ممالک اور تنظیموں کے بیانات کو دیکھا ہے، ہم ان میں سے بعض بیانات کے منفی لہجے پر حیران ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ بیانات انتخابی عمل کی پیچیدگی کو مدنظر نہیں رکھتے، نہ ہی یہ  بیانات لاکھوں پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے آزادانہ  استعمال کو تسلیم کرتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ بیانات نہ تو انتخابی عمل کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی لاکھوں پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے آزادانہ اور پرجوش استعمال کو تسلیم کرتے ہیں، یہ بیانات اس ناقابل تردید حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ پاکستان نے عام انتخابات پرامن اور کامیابی کے ساتھ منعقد کیے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کچھ بیانات حقیقت پر مبنی بھی نہیں ہوتے، ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش نہیں تھی، پولنگ کے دن دہشت گردی کے واقعات سے بچنے کے لیے صرف موبائل سروس کو دن بھر کے لیے معطل رکھا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انتخابی عمل نے یہ ظاہر کیا ہے کہ بہت سے مبصرین کے خدشات غلط تھے، پاکستان نے ایک مستحکم اور جمہوری معاشرے کی تعمیر کے عزم کے تحت انتخابات کا انعقاد کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ ہم اپنے دوستوں کے تعمیری مشوروں کو اہمیت دیتے ہیں، لیکن انتخابی عمل کی تکمیل سے قبل منفی تبصرہ کرنا  تعمیری نہیں، پاکستان ایک متحرک جمہوری نظام کی تعمیر کے لیے کام جاری رکھے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی ہمیں اس مقصد کے قریب لاتی ہے، ہم یہ دوسروں کی طرف سے ظاہر کیے گئے خدشات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمارے لوگوں کی خواہش اور ہمارے بانیوں کا وژن ہے۔

Comments

- Advertisement -