spot_img

تازہ ترین

بانی پی‌ ٹی آئی نے صدر کے لیے کِسے نامزد کیا؟ نام سامنے آگیا

اسلام آباد : سنی اتحاد کونسل کی جانب سے...

ملک کا اگلا وزیراعظم کون ؟ فیصلہ کل ہوگا

اسلام آباد :پاکستان کے نئے وزیراعظم کا انتخاب کل...

کراچی میں بارش کے بعد سردی مزید بڑھ گئی

شہر قائد میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے...

کراچی میں موسلا دھار بارش کا کوئی امکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا ہے کہ کراچی...

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

الیکشن 2024: اُن سوالوں کے جواب جو اکثر ووٹرز پوچھتے ہیں

8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستانیوں، بالخصوص نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کر کے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو کامیاب کرنے کی کوشش کرے گی۔

وزارت عظمیٰ کیلیے مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (آزاد امیدوار)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک لبیک پاکستان سمیت متعدد سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی کی 266 اور صوبائی اسمبلیوں کی 593 نشستوں پر ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گی۔

یہاں کچھ ایسے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے جو اکثر ووٹرز کی جانب سے پوچھے جاتے ہیں:

سوال: قومی یا صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کیلیے امیدوار کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟

جواب: کم از کم 25 سال

سوال: سینیٹ (ایوانِ بالا) کے الیکشن میں حصہ لینے کیلیے عمر کی حد کیا ہے؟

جواب: کم از کم 30 سال

سوال: صدارتی امیدوار کیلیے کتنی عمر قابلِ قبول ہے؟

جواب: کم از کم 45 سال

سوال: اگر کوئی شخص پشاور میں بطور ووٹر رجسٹرڈ ہے تو کیا وہ لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے سے الیکشن لڑ سکتا ہے؟

جواب: جی لڑ سکتا ہے، اس کیلیے اُس شخص کا اندراج ملک کے کسی بھی ضلع یا حلقے کی انتخابی فہرست میں ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر وہ صوبائی اسمبلی کے کسی حلقے سے الیکشن میں حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کیلیے اُسی صوبے میں بطور ووٹر رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔

سوال: کیا سزا یافتہ اور پہلے سے قید مجرم الیکشن لڑ سکتا ہے؟

جواب: جی نہیں، اگر کسی شخص کو کم از کم دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہو تو وہ اس وقت تک کوئی الیکشن نہیں لڑ سکتا جب تک کہ اس کی رہائی کے بعد سے پانچ سال کا عرصہ نہ گزر جائے۔

سوال: کیا کوئی عوامی عہدہ رکھنے والا یا سرکاری ملازم اپنے اندراج شدہ ضلع سے دور رہ کر پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دے سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں، سرکاری ملازم یا عوامی عہدہ رکھنے والا شخص پوسٹل بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے، اور یہ سہولت اُس کے اہل خانہ کیلیے بھی میسر ہے۔

سوال: الیکشن کی ڈیوٹی پر معمور عملہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنا ووٹ کیسے کاسٹ کرتے ہیں؟

جواب: وہ بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے بتائی گئی تاریخوں کے اندر پوسٹل بیلٹ کے ذریعے اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

سوال: کیا بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں؟

جواب: اگر کوئی اوورسیز پاکستانی الیکشن کے موقع پر پاکستان میں موجود ہے اور اس کا ووٹ بھی رجسٹرڈ ہے تو وہ کاسٹ کر سکتا ہے، البتہ یہ سہولت اُن لوگوں کیلیے جو ملک سے باہر ہیں۔

Comments

- Advertisement -