توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ کا معاملہ سنگین، حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر
The news is by your side.

Advertisement

توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ کا معاملہ سنگین، حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر

اسلام آباد : توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، سرکلرڈیٹ کا حجم 900 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔

تفصیلات کے مطابق توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ کا معاملہ سنگین ہوگیا اور حجم تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے اعداد وشمار کے مطابق سرکلر ڈیٹ کا حجم نو سو بائیس ارب روپے ہوگیا۔

نومبر 2017 تک سرکلر ڈیٹ کا حجم 472 ارب 67 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے 450 ارب روپے پاور ہولڈنگ پرائیویٹ کمپنی میں پارک کر رکھے ہیں، جن کے بارے حکومت کے پاس کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔

پاکستان اسٹیٹ آئل نواسی ارب چالیس کروڑ روپے ادا کرنے ہیں، حبکو کو ستر ار روپے جبکہ کیپکو کے واجبات کا حجم تہتر ارب روپے ہوچکا ہے۔

نجی بجلی گھروں کو مجموعی طور پر دو سواٹھاسی ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ واپڈاکوباون ارب روپے ادا کرنے ہیں۔


مزید پڑھیں :  ملکی زرمبادلہ کے ڈالر ذخائر: ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر رہ گئے


گذشتہ روز اسٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر صرف ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر رہ گئے، آئی ایم ایف کو قرضے کی ادائیگی کے باعث ایک ہفتے میں پاکستان کے ڈالر ذخائر میں نمایاں کمی آگئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق سی پیک کے باعث پاکستان کی ماہانہ درآمدات کا مالی حجم 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہےاور اب پاکستان کے پاس صرف ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر ڈالر کا ذخیرہ باقی ہے۔

وزارتِ خزانہ کو جون میں آئی ایم ایف کو قرضہ واپسی اور سود کی مد میں 3 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں جس کی رقم کا بندوبست فی الحال نہیں ہوسکا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں