The news is by your side.

محکمہ ماحولیات کی رپورٹ دل دہلا دینے والی ہے، حکومت نے آج تک کیا کیا: سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت میں محکمہ ماحولیات کی جاری کردہ رپورٹ کو دل دہلا دینے والی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ کمراہ عدالت میں ڈائریکٹر جنرل ماحولیات راجہ رزاق اور چیف سیکریٹری پنجاب موجود رہے۔

سماعت میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی جی ماحولیات سے استفسار کیا کہ لاہور کے کتنے علاقوں میں ماحوالیاتی آلودگی ٹیسٹ کرائے گئے؟ آلودگی پر قابو پانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟ ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

ماحولیاتی آلودگی دنیا بھر میں سالانہ 90 لاکھ افراد کی قاتل

ڈی جی ماحولیات راجہ رزاق نے موقف اختیار کیا کہ لاہور میں کنال روڈ، جیل روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ اور جلو پارک سمیت مختلف علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی ٹیسٹ کرائے گئے، ورلڈ بینک کی معاوت سے نئی پالیسیز اور زگ زیگ سسٹم بنا رہے ہیں، سسٹم سے بھٹوں، فیکٹریوں کے دھوئیں کو کنٹرول کیا جائے گا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ چھوڑیں پالیسی کو، ایسی پالیسیاں بہت بنائی جاسکتی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ منصوبوں پر مکمل رقم ہی استعمال نہیں ہوتی جس کے باعث شہری بالخصوص بچے ماحولیاتی آلودگی سے بیمار ہو رہے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف سیکریٹری پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ پالیسی بنا رکھی ہے، جلد اس پر عمل در آمد شروع کریں گے، ماضی میں ہمارے پاس آلات ہی نہیں تھے، ایک سال پہلے ہمیں دیے گئے۔

ماحولیاتی آلودگی انسانوں کے ذہن تباہ کررہی ہے

جسٹس اعجاز الاحسن نے موقف اختیار کیا کہ 19 سال پہلے میں ماحولیاتی ٹربیونل میں بطور وکیل پیش ہوا تھا، اُس وقت بھی محکمہ ماحولیات نے آلات ملنے کے لیے 6 سے 7 ماہ کا وقت بتایا تھا۔ عدالت نے ڈی جی ماحولیات اور چیف سیکریٹری سے پالیسی پر عملدر آمد کی رپورٹ دو دن کے اندر عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں