The news is by your side.

Advertisement

ایفی ڈرین کیس میں محض ایک شخص کو نشانہ بنایا جارہا ہے‘ وکیل حنیف عباسی

راولپنڈی: ایفی ڈرین کوٹی کیس کی سماعت میں مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس میں فقط ایک شخص کو ٹارگٹ بنایا جارہاہے۔

تفصیلات کے مطابق آج ہونے والی سماعت میں سابق ایم این اے اور مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اےاین ایف نے کسی بھی حوالےسےتفتیش نہیں کی‘کیس میں جوگواہ تھےانہیں بعدمیں ملزم بنادیاگیا۔

ان کا کہناتھا کہ کیس میں فقط ایک شخص کوٹارگٹ کرنےکی کوشش کی گئی ہے‘ اتحادفارماکوریلوےکےذریعےادویات کی بلٹیزبھجوائی گئیں تاہم اےاین ایف نے تصدیق کرنےکی ضرورت محسوس نہیں کی۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ اےاین ایف سرےسےانکاری ہےکہ سپلائی نہیں ہوئی۔ ہمارامؤقف ہے کہ سپلائی ہوئی جس کاآن لائن ریکارڈموجودہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیشی افسرنےتسلیم کیامختلف بیجزمیں گولیوں کےجارسپلائی ہوئے‘ اےاین ایف نےعدالتی حکم پر5100جارکی واپسی کی بھی تصدیق نہ کی۔ حینف عباسی کے وکیل کا موقف تھا کہ گواہوں پردباؤڈال کر ہمارےخلاف استعمال کرنےکی کوشش کی گئی۔

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں حنیف عباسی اور ان کے بھائی سمیت آٹھ ملزمان پرایفی ڈرین کوٹہ کیس میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی‘ تاہم حنید عباسی کی جانب سے اسے سیاسی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ برس اپریل میں انسداد منشیات عدالت کی میں ایفیڈین کوٹہ کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران جج ارم نیازی نے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کےبیٹ علی موسیٰ گیلانی،سابق وفاقی وزیرمخدوم شہاب الدین سمیت 11 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی۔

جن ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں سیکرٹری صحت خوشنود لاشاری ، سابق ڈی جی ہیلتھ اسد حفیظ ، سابق ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر عبدالستار شورانی ، ڈرگ کنٹرولر شیخ انصر ، انجم شاہ اور دیگر شامل ہیں۔

علی موسیٰ گیلانی سمیت 11 ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 9 ہزار500 کلو گرام ایفیڈرین جو کہ ادویات کی تیاری میں استعمال ہونی تھی کو مارکیٹ میں فروخت کردیا تھا، جس کی وجہ سے ادویات کی پیداوار میں قلت پیدا ہوگئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں