The news is by your side.

Advertisement

امریکی اقدامات کا خمیازہ یورپی کمپنیاں کیوں ادا کریں، یورپی وزیر خارجہ

پیرس :امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں پر یورپ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اقدامات کا خمیازہ یورپی کمپنیاں کیوں ادا کریں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایرانی سپاہ پاسداران کو مالی مدد فراہم کرنے والے چھ افراد اور ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی تین کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرانس نے امریکا کی جانب سے ایران پر اور سپاہ پاسداران سے تعلق کے شبے میں یورپی کمپنیوں پر پابندی لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’ناقابل قبول قرار دیا ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں پر تنقید کرنے سے امریکا اور فرانس کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کا ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے پر چھ افراد اور تین کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ ان افراد اور کمپنیوں کے ایرانی سپاہ پاسداران سے رابطے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سنہ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد متعدد فرانسیسی کمپنیوں نے ایران کے ساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے کیے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کہنا تھا کہ ایران کے معاہدہ کرنے والی کمپنیوں میں فرانس کی ملٹی نیشنل کمپنیاں ایئر بس، آئل کمپنی ٹوٹل، جبکہ کار بنانے والی کمپنیوں میں رنو اور پژجو شامل ہیں۔

یورپ کے وزیر خارجہ لی ڈارین کا کہنا ہے کہ امریکا کے اقدامات کا جرمانہ یورپی کمپنیاں کیوں ادا کریں، امریکا کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں شامل دیگر شراکت داروں کی عرت کرنی چاہیئے۔

یورپی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات پہلے سے تیل کے اخراجات میں اضافہ اور مشرقی وسطی میں سیاست کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ محسوس ہوگا۔

خیال رہے کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تینوں یورپی ممالک جوہری معاہدے پر باقی رہیں گے اور ایران کے ساتھ مل کر معاہدے پر عمل درآمد رہیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں