The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : خروج وعودہ سے متعلق محکمہ پاسپورٹ کی اہم وضاحت

ریاض : سعودی عرب میں غیرملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں جن پرعمل کرنا سب کے لیے لازمی ہے، آجر اور اجیر کے حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں جن سے آگاہی بہت ضروری ہے۔

ایوان شاہی کی جانب سے ان ممالک کے تارکین کے لیے جہاں سے لوگوں کے آنے پرعارضی پابندی عائد ہے خصوصی رعایت دیتے ہوئے اقاموں اور خروج وعودہ کی مدت میں 2 جون 2021 تک توسیع کا اعلان کیا گیا تھا۔

ایسے افراد جو متاثرہ ممالک کے شہری ہیں ان کے اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں شاہی معافی کے تحت خود کار توسیع کر دی جائے گی جس کے لیے انہیں جوازات سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ایک شخص نے جوازات سے پوچھا ہے کہ میرا خروج وعودہ 27 مئی کو ایکسپائر ہوگیا ہے کیا میں سرکاری رعایت کا حقدار ہوں گا؟

جوازات کی جانب سے کہا گیا کہ شاہی اعلان کے بعد متاثر ممالک کے ان شہریوں کےاقامہ اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع مرحلہ وار جاری ہے۔ اس بارے میں جوازات سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں۔ خروج وعودہ خود کار طریقے سے مقررہ مدت تک کے لیے تجدید کردیا جائے گا۔

ایک اور شخص نے جوازات سے دریافت کیا کہ شاہی رعایت کے تحت اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں 2 جون 2021 تک توسیع کی جائے گی۔ کیا مقررہ مدت کے بعد بھی سرکاری طور پر مزید کوئی رعایت دی جائے گی؟

جوازات کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری سطح پر کسی قسم کی خصوصی رعایت کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کا اعلان سرکاری سطح پر کردیا جائے گا۔

خروج وعودہ کے حوالے سے ایک شہری نے پوچھا ہے کہ اپنے کارکن کا خروج وعودہ ویزا لگوایا ہے مگر اب وہ مستقل طورپر جانا چاہتا ہے، کیا خروج وعودہ کو نہائی میں تبدیل کر سکتا ہوں۔

جوازات کی جانب سے کہا گیا کہ خروج وعودہ لگوانے کے بعد اگر سفر نہیں کیا جائے تو اسے کینسل کرانا لازمی ہے۔ کینسلیشن کی فیس نہیں ہوتی تاہم خروج وعودہ کے لیے جو فیس جمع کرائی گئی ہے وہ ری فنڈ بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ خروج وعودہ “ابشر” پورٹل سے کینسل کرایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ خروج وعودہ جاری کرانے کے بعد یا تو اسے استعمال کیا جاتا ہے یا وقت مقررہ کے اندر اسے کینسل کرایا جائے، بصورت دیگر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

خروج وعودہ ویزے کو نہائی یعنی فائنل ایگزٹ ویزے میں تبدیل نہیں کرایا جا سکتا۔ اس کےلیے پہلے خروج وعودہ کو کینسل کرایا جائے بعد ازاں فائنل ایگزٹ ویزہ لگایا جائے۔

یاد رہے کہ فائنل ایگزٹ ویزے کی کوئی فیس نہیں ہوتی تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ جس شخص کا فائنل ایگزٹ لگایا جا رہا ہے اس کا اقامہ کارآمد ہو۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جن ممالک سے لوگوں کے براہ راست مملکت آنے پر پابندی عائد ہے وہ کب تک اٹھائے جانے کا امکان ہے؟

جوازات کا کہنا تھا کہ پابندی اٹھائے جانے کے بارے میں سرکاری سطح پراحکامات جاری کیے جائیں گے، جیسے ہی اس حوالے سے احکامات صادر ہوں گے جوازات کی جانب سے اس بارے میں اطلاع دی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں