site
stats
صحت

سیلفی کی عادت آپ کی دماغی صحت کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے

نیویارک : سیلفی کی دیوانگی ہر عمر کے لوگوں کو ہے لیکن ٹين ایج اور نوجوان گروپس کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیلفی لینے کی عادت آپ کی دماغی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔

اسمارٹ فونز اب ہم سب کی دسترس میں ہیں اور تصویر بنوانے فوٹو اسٹوڈیو جانے کی روایت دم توڑ رہی ہے کیونکہ ہمارے اسمارٹ فون کا کیمرا اب ہمیں یہ خدمات فراہم کر رہا ہے۔

حالیہ چند برسوں میں سیلفی لینے کا رواج بہت زور پکڑ چکا ہے، دفاتر، پارکوں، تفریحی مقامات اور  پارٹیوں میں اب  لوگ موبائل فون سے اکثر اپنی تصویریں بناتے نظر آتے ہیں اور سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا  عام تفریح بن چکی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عادت  نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بھی بن رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلفی کے سبب لوگ اپنے تک محدود ہو رہے ہیں خود ہی کو خوبصورت دکھانے کی تمنا آپ کو ہر وقت ایک الھ ہی دنیا میں رکھتی ہے، جو دماغی صحت پے پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔

12

ماہر نفسیات لنڈا پیپیڈوپولس کا کہنا ہے کہ “سیلفی کلچر” نوجوان لوگوں کی ذہنی صحت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے، اور ان میں ڈپریشن بھی بدترین قسم کا پایا جاتا ہے۔

 

ایک انٹرویو میں انکا کا کہنا ہے کہ کھانے کی عادات میں بے ترتیبی اور دماغی کمزوری کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزارتے ہیں۔

اپنی زندگی کے ہر لمحے کی تصاویر لینے کی عادت لوگوں کے اندر اہم لمحات کو یاد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے، ماہرین کے مطابق سیلفی لینے کی عادت یاداشت پر اثر انداز ہوتی ہے اور لوگ اپنی زندگی کے اہم لمحات کی بہت کم باتیں ہی یاد رکھ پاتے ہیں کیونکہ سیلفی لیتے ہوئے لوگوں کی توجہ صرف ایک خاص چیز یا منظر پر مرکوز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی یاداشت زوم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔

13

محققین کا کہنا ہے کہ نوجوان عمر میں سیلفی لینے کی عادت ان کی پوری شخصیت پر اثر ڈالتی ہے اور یہ کسی بھی فیلڈ میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top