The news is by your side.

Advertisement

کرائسٹ چرچ حملہ : فیس بک کا سفیدفام قوم پرست، علیحدگی پسند عناصر پر پابندی کااعلان

سان فرانسسکو :کرائسٹ چرچ حملے کے بعد فیس بُک نے سفید فام قوم پرست اور علیحدگی پسند عناصر پر پابندی کا اعلان کردیا اور تسلیم کیاکہ کرائسٹ چرچ حملوں کی ویڈیو کو فیس بُک سے ہٹانے سے قبل چار ہزارسےزائد باردیکھاگیا۔

تفصیلات کے مطابق کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں کے بعد فیس بک کا بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سفید فام قوم پرست اور علیحدگی پسند عناصر پر پابندی کا اعلان کردیا، اگلے ہفتےسےفیس بُک اورانسٹاگرام پرسفید فام قوم پسند اور علیحدگی پسند عناصر کی تعریف ، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی ہوگی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے فیس بُک پر شائع کیےجانے والے مواد کی شناخت کرنے اور اس پر پابندی لگانے کی صلاحیت بہتر بنائے گا اور تسلیم کیا کہ کرائسٹ چرچ حملوں کی ویڈیو کو فیس بُک سے ہٹانے سے قبل چار ہزارسےزائد بار دیکھاگیا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے فیس بک کےاقدام کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے والوں کو مل کر روکنا ہوگا۔

خیال رہے نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں 2 مساجدپرحملوں کی لائیوویڈیوفیس بک پر چلانے کے بعد فیس بک پر دباؤ تھا۔

واضح رہے نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں سفید فام شخص نے دو مساجد پر اُس وقت فائرنگ کی تھی کہ جب وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کا اجتماع شروع ہونا تھا۔

مزید پڑھیں : کرائسٹ چرچ : دہشت گردی کی وڈیو دکھانے پر فیس بک اور یوٹیوب کیخلاف مقدمہ

فائرنگ کے واقعے میں 49 مسلمان شہید جبکہ متعدد نمازی شدید زخمی ہوئے، ملزم نے اپنے گھناؤنے عمل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی تھی اور مذکورہ ویڈیو17منٹ تک مسلسل انٹرنیٹ پر دکھائی گئی تھی۔

بعد ازاں امریکا کی داخلی سلامتی کمیٹی نے نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملے کو براہ راست نشر کرنے اور ویڈیوز سماجی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیے جانے پر سوشل میڈیا کے سربراہوں سے وضاحت طلب کرلی تھی۔

امریکا کی داخلی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین بینی تھامسن کی جانب سے فیس بک، ٹویٹر اور مائیکرو سافٹ کے سربراہان کو لکھے خط میں ایسی ویڈیوز کو روکنے کے لیے انتظامات اور اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کرنے اور سوشل میڈیا کے مالکان اور ذمہ دار سماجی ویب سائٹس سے ایسا مواد ہٹانے اور مستقبل میں ایسی ویڈیوز شیئر نہ کیے جانے کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔

فرانسیسی مسلم کونسل نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والی دہشت گردی کی ویڈیو انٹرنیٹ پر نشر کرنے پر فیس بک اور یوٹیوب کیخلاف مقدمہ درج کرادیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں