The news is by your side.

Advertisement

جب فیض احمد فیض کو اپنے بھائی سے شکوہ کرنا پڑا

موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ کڑی اور سخت، لیکن مشیّتِ ایزدی کے آگے انسان بے بس ہے۔ ہر ادنیٰ و اعلیٰ، خاص و عام، امیر غریب، سبھی کو ایک روز اس جہانِ رنگ و بُو سے رخصت ‌ہونا ہے۔

ہر عام آدمی کی طرح فن کار، ادیب اور شاعر بھی جب رفتگاں کو یاد اور اپنوں کے بچھڑ جانے کا دکھ شدّت سے محسوس کرتے ہیں تو ان کا فن اور ان کی قوّتِ متخیلہ اس کے اظہار کی کوئی صورت ضرور بناتی ہے۔ اردو شاعری میں اس کی مثال مراثی اور حزنیہ کلام ہے۔

یہاں‌ ہم اردو زبان کے عالمی شہرت یافتہ، ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی ایک ایسی ہی نظم پیش کررہے ہیں‌ جو انھوں‌ نے اپنے بھائی کی رحلت کے بعد ان کی یاد میں‌ لکھی تھی۔ اس نظم کا عنوان “نوحہ” ہے جس میں فیض نے بھائی کے لیے اپنی محبّت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دائمی جدائی کے کرب کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔

نوحہ
مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے
لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں
اس میں بچپن تھا مرا اور مرا عہدِ شباب

اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے
اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب

کیا کروں بھائی یہ اعزاز میں کیوں کر پہنوں
مجھ سے لے لو مری سب چاک قمیصوں کا حساب

آخری بار ہے لو مان لو اک یہ بھی سوال
آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوسِ جواب

آ کے لے جاؤ تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول
مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

Comments

یہ بھی پڑھیں