فیض آباد دھرنا: وزیراعظم کی درخواست پر آرمی چیف نے ثالثی کا کردارادا کیا -
The news is by your side.

Advertisement

فیض آباد دھرنا: وزیراعظم کی درخواست پر آرمی چیف نے ثالثی کا کردارادا کیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی ناکامی کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر دھرنا مظاہرین اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے اور اپنے مثبت کردار کے ذریعے ملک سے بحران اور انتشار کی فضا ختم کروانے پر پوری قوم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اظہارِ بے بسی کے بعد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر ثالثی کی تجویز دی اور گھمبیر معاملے کو افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر نہ صرف یہ کہ زور دیا بلکہ دھرنا مظاہرین سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو درست سمت کے چناؤ میں مدد فراہم کی۔

حکومت کی جانب سے فیض آباد آپریشن کے بعد پورے ملک میں دھرنے شروع ہوگئے تھے اور ملک میں خانہ جنگی کا اندیشہ تھا ‘ جس کے سب قومی قیادت نے بڑا فیصلہ کیا اور آرمی چیف نے اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کیا ۔

یاد رہے کہ ہفتے کی صبح وفاقی حکومت نے فیض آباد انٹرچینج کو مظاہرین سے کلئیر کرانےکے لیے آپریشن شروع کیا ‘ جس کے ردعمل میں ملک بھر میں مذہبی جماعت کے دھرنے شروع ہوگئے اور نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔

ایسے ماحول میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم کی درخواست پر حکومت اور مذہبی جماعت کے مظاہرین اور ان کی قیادت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔

اس حوالے سے دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت خود کرپٹ ہے ‘ اس لیے ریاست کی رٹ نافذ نہیں کراسکی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے بڑھ کر جمہوریت کی توہین کیا ہوگی‘ یہ حکومت کے لیے انتہائی شرم کا مقام ہے۔

یاد رہے کہ آج صبح زاہد حامد کے استعفے کے بعد حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پاگیا، 6 نکاتی معاہدے پروزیرداخلہ احسن اقبال ، سیکریٹری داخلہ، خادم حسین رضوی اورپیرافضل قادری اورمحمد وحید نور کے بھی دستخط موجود ہیں۔

وفاقی حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ فوجی نمائندے کی موجودگی میں کیا گیا ‘ فوجی نمائندے کے طور پرمیجرجنرل فیض حمید کے دستخط بھی موجود ہیں۔


معاہدے کے بنیادی نکات


معاہدے کے مندرجات میں لکھا گیا ہے کہ تحریک ِلبیک زاہد حامد کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہیں کرے گی۔

راجا ظفرالحق رپورٹ 30 دن میں منظرعام پر لائی جائے گی جبکہ الیکشن ایکٹ ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دھرنے کے تمام گرفتارکارکنوں کو 3 دن میں رہا کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات بھی ختم کیے جائیں گے، تحریک لبیک کے قائدین کی نظربندیاں ختم کردی جائیں گی۔

ہ دھرنےکے خلاف آپریشن سےمتعلق انکوائری بورڈ تشکیل دیا جائے گا، بورڈ معاملات کی چھان بین کر کے ذمےداروں کا تعین کرے گا۔

دھرنےکے اختتام تک ہونے والےنقصانات کا ازالہ وفاقی، صوبائی حکومت کرے گی۔

حکومت پنجاب سے متعلق جن نکات پراتفاق ہوا ان پرمن وعن عمل ہوگا۔

آرمی چیف کی ثالثی کے نتیجے میں ہونےو الے اس معاہدے کے بعد تحریکِ لبیک نےفیض آباد پر اپنا مرکزی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا‘ جس کے بعد فیض آباد سمیت ملک بھر کے دھرنوں میں موجود مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے تھے۔


 لاہور ہائی کورٹ بار کا پاک فوج کو خراج تحسین 


لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے دوران مثبت کردار ادا کرنے پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاک فوج کی وجہ سے بحران ٹل گیا اور بگڑتی ہوئی کشیدہ صورت حال نارمل ہو گئی۔

یہ بات فیض آباد دھرنے کے شرکا پر تشدد کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کی گئی جس میں دھرنے کے شرکا پر تشدد اور ملکی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر صدر ہائی کورٹ بار ذوالفقار چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت فیض آباد دھرنے کا بحران حل کرنے کے معاملے پر مکمل ناکام نظر آئی تاہم اس موقع پر پاک فوج اور چیف آف آرمی سٹاف نے مثبت کردار ادا کیا اور انھوں نے مظاہرین پر تشدد کی مخالفت کی جس کی وجہ سے معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کے مثبت کردار کی وجہ سے بحران حل ہو سکا اور ان کے مشورے پر عمل کر کے ہی حکومت اور دھرنے کے شرکا پُرامن حل پر پہنچ سکے ، اس موقع پر ہائی کورٹ بار کے وکلا نے کھڑے ہو کر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں