بجٹ میں سبسڈی کے لیے کسانوں کا ڈی چوک پر احتجاج -
The news is by your side.

Advertisement

بجٹ میں سبسڈی کے لیے کسانوں کا ڈی چوک پر احتجاج

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بجٹ میں کسانوں کو سبسڈی دینے کے لیے پاکستان کسان اتحاد کی جانب سے ریلی نکالی گئی جس پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے، جس کے بعد ڈی چوک میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کسان اتحاد کی جانب سے منعقد کی گئی احتجاجی ریلی میں کسانوں نے مطالبہ کیا کہ بلوں اور کھاد میں سبسڈی دی جائے۔ کسانوں نے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی وزیراعظم سے ملاقات کروائی جائے بصورت دیگر وہ کسی دوسرے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال شروع کردیا۔

جواباً کسانوں نے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پتھراؤ کے بعد پولیس نے مظاہرین کی گرفتاری بھی شروع کردی۔ اب تک 20 سے 22 مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی شریک

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ بھی کسان اتحاد کے مظاہرے میں پہنچے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 70 فیصد لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے۔ کسان ہماری معیشت کو بہتر کرتے ہیں۔ غریب محنت کرتا ہے اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر مزے لیتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی جب بھی برسر اقتدار آئی غریبوں اور کسانوں کی حمایت کی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ حکمرانوں آنکھیں کھولو، ورنہ اس ملک کی معیشت ختم ہو جائے گی۔ حکمران نہیں چاہتے کہ پاکستان کا غریب خوشحال ہو۔

عمران خان کی کسانوں پر تشدد کی مذمت

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کسانوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے والے کسانوں پر تشدد آمرانہ سوچ کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان شہریوں کو پر امن احتجاج کا پورا حق دیتا ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے حکومت کسانوں کو ان کے حقوق دے۔

آصف زرداری کی پارلیمنٹ میں احتجاج کی ہدایت

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کسانوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔

انہوں نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے کسانوں پر تشدد کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کرنے کی ہدایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسان حق مانگ رہے ہیں رعایت نہیں۔ سبسڈی دینے سے ملک خوراک میں خود کفیل ہوگا۔

رضا ہارون کی گرفتاریوں کی مذمت

دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی کے سیکریٹری جنرل رضا ہارون نے کسان رہنماؤں اور مظاہرین کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جائز حقوق کے لیے احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ معاملہ افہام و تفہیم اور مذاکرات سے حل ہوسکتا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کسان رہنماؤں کی فوری رہائی کو ممکن بنایا جائے۔

یاد رہے کہ بجٹ 18-2017 آج پیش کیا جارہا ہے۔ وفاقی حکومت اس سال بھی معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں