The news is by your side.

Advertisement

زرعی قوانین کی واپسی کے لیے مودی حکومت کو الٹی میٹم

نئی دہلی: بھارتیہ کسان یونین نے مودی حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ 2 اکتوبر تک ظالمانہ زرعی قوانین واپس لیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق زرعی قوانین کی واپسی کے لیے مودی حکومت کو 2 اکتوبر تک کا وقت دے دیا گیا، بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان نے مودی حکومت سے کہا ہے کہ اگر اس تاریخ تک تینوں قوانین واپس نہیں لیے جاتے تو آگے کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ہم دباؤ میں حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے، ہمارا احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک سبھی قوانین واپس نہیں لے لیے جاتے اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ نہیں مل جاتا۔

واضح رہے کہ آج بھارت بھر میں متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں نے پہیہ جام ہڑتال (چکا جام) کرتے ہوئے ملک کی اہم اور مرکزی شاہراہوں کو ٹریکٹرز کھڑے کر کے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا تھا جس کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور حکومتی افسران مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچ گئے۔

دہلی پولیس کا کسانوں کی مٹی پر قبضہ، وجہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چکا جام انتہائی کامیاب رہا، دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک کیے گئے چکا جام میں کوئی ناخوش گوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا حکومت کے ساتھ اب مشروط بات چیت ہوگی، مطالبات پورے ہونے کے بعد ہی کسان گھر واپس جائیں گے، ورنہ دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد سبھی قانون واپس لے اور ٹریکٹر والوں کو نوٹس بھیجنے کی حرکت بند کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں