بیرسٹر فروغ نسیم کا مشرف کیس سے دستبردار ہونے کا اعلان
The news is by your side.

Advertisement

بیرسٹر فروغ نسیم کا مشرف کیس سے دستبردار ہونے کا اعلان

اسلام آباد: نومنتخب وزیرقانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کے کیس سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے اعلان کیا کہ ’پرویز مشرف کی وکالت سے دستبردار ہوچکا ہوں، سیکریٹری کو ہدایت کردی کہ مشرف کا معاملہ اب پیش نہ کریں‘۔

واضح رہے کہ معروف قانون دان بیرسٹر فروغ نسیم پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر مقدمات کی پیروی کررہے تھے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد 20 رکنی کابینہ تشکیل دی تو سینیٹر فروغ نسیم کو  وزارت قانون کا قلمدان سونپا۔ بیرسٹر فروغ نسیم ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر گزشتہ برس ایک بار پھر سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے۔

مزید پڑھیں: سنگین غداری کیس میں غیر حاضری، پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

خیال رہے کہ  وزیراعظم عمران خان نے 18  اگست کو 20 رکنی وفاقی کابینہ کی منظوری دی تھی جس میں 15 وزرا اور 5 مشیرشامل تھے۔

وفاقی وزراء میں شاہ محمود قریشی،پرویزخٹک، شفقت محمود، اسد عمر، شیریں مزاری، شیخ رشید اور شہریارآفریدی شامل تھے جبکہ طارق بشیر چیمہ، غلام سرور خان،طاہر صادق اور علی زیدی کو بھی کابینہ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسد عمر کو وزیر خزانہ، شاہ محمودقریشی کو وزارت خارجہ، پرویزخٹک کو وزارت دفاع اور شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت دینے کی منظوری دی تھی جبکہ شیریں مزاری کو انسانی حقوق، شفقت محمود کو وزیر تعلیم ، فروغ نسیم کو قانون و انصاف کا قلمدان دیا گیا تھا علاوہ ازیں نورالحق قادری وزیر مذہبی امور اور بین الامذاہب ہم آہنگی تعینات کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مشرف کا ایم کیو ایم کی صدارت سنبھالنا ممکن نہیں، فروغ نسیم

وفاقی وزیراطلاعات کے لیے عمران خان نے فواد چوہدری ، غلام سرور خان کو پیٹرولیم، زبیدہ جلال وزیر دفاعی پیداوار، عامی کیانی وزاتِ صحت کا قلمدان سونپا تھا جبکہ فہمیدہ مرزا کو وزیر بین الاصوبائی رابطہ ارباب شہزاد مشیر اسٹیبلشمنٹ اور خالد مقبول صدیقی وزیر انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں