مقبوضہ کشمیرکےسابق وزیراعلی نے مسئلہ کشمیر پرامریکا سے مدد مانگ لی -
The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیرکےسابق وزیراعلی نے مسئلہ کشمیر پرامریکا سے مدد مانگ لی

سری نگر : مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرحل کرنے کے لئے امریکا ثالثی کرے، مقبوضہ کشمیرکے بھارت سے الحاق میں میرے والد کا کوئی کردار نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ بھارت تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکا ثالثی کرے، پاکستان اوربھارت کے درمیان پانی کا مسئلہ بھی امریکا نے ہی حل کرایا تھا۔ یہ معاملہ بھی حل کرائے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مودی کو انسانیت،کشمیریت اور جمہوریت کا احساس ہے تو حریت رہنماؤں سے بات کیوں نہیں کرتے، بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو اقتدار کی بھوکی سیاست کی پالیسی کے تباہ کن نتائج تسلیم کرنے چاہیں۔

انھوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے مذاکرات شروع کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، دو سال کے دوران کشمیر میں صورتحال بہت تبدیل ہوئی ہے، اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں فوجی نہیں سیاسی حل کی ضرورت ہے، حکومت کو نوجوانوں اور حریت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنی چاہیے اور حکومت کو پاکستان سے بھی بات کرنی ہوگی۔

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کشمیر سے الحاق میں میرے والد کا کوئی کردار نہیں تھا۔انہیں اندازہ ہوگیا تھا بھارتی جمہوریت کھوکھلی ہے، انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر کےحل کی امید پیدا ہو گئی تھی۔


مزید پڑھیں : بھارت ہوش کے ناخن لے ورنہ کشمیر گنوا دے گا، فاروق عبداللہ


گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ بھارت کوجاگ جانا چاہیے ورنہ مقبوضہ کشمیر بھی پاکستان میں شامل ہوجائے گا۔

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ مودی سرکار آگ سے کھیل رہی ہے کیونکہ پتھراؤ کرنے والے کشمیری نوجوان کسی عہدے یا وزارت کے طلب گارنہیں بلکہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں، بھارتی حکومت نے ان سے ہر طرح کی آزادی چھین لی ہے اور وہ آزادی کےلیے ہی لڑ رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں