The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ سندھ اپنے بیان پر معافی مانگیں، فاروق ستار کا 48 گھنٹے کاالٹی میٹم

اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے وزیراعلیٰ سے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ مراد علی شاہ نے48 گھنٹوں میں  معافی نہیں مانگی تو لیاقت آباد میں احتجاج کریں گے جبکہ فاروق ستار نے ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں سمیت مہاجر قومی موؤمنٹ، پی ایس پی اور مہاجراتحاد کو بھی احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دے دےدی۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے وزیراعلیٰ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سندھ کی مہاجروں کی دل آزاری کی مذمت کرتےہیں اور ان کی تقریراورتلخ جملوں کو مسترد کرتا ہوں، 90ارب روپے لاڑکانہ پر لگائے گئے، کوئی ایک منصوبہ بتا دیں، کراچی میں 7ارب روپےمیں دو4سڑکیں بنادیں، 300 ارب میں سے7ارب کراچی پر لگا دینا ایک المیہ ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم نےابھی کوئی جنوبی سندھ صوبےکامطالبہ نہیں کیا، لوگ جنوبی سندھ صوبے کی بات کرتے ہیں یہ سوچ ہے، 1972میں پیپلز پارٹی نے جس طرح قتل عام کیا تاریخ ہے، سندھ کی تقسیم کا بیج آپ نے بویا ہے، سندھ کی تقسیم کی بات لوگوں کے ذہنوں میں آپ نے ڈالی۔

رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ کوٹہ سسٹم2013میں ختم ہوگیالیکن ابھی بھی چل رہاہے، مردم شماری میں کم گنا جانا حلقہ بندیوں پر کم سیٹیں ناانصافی ہیں، پیپلزپارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے ہماری زمینوں پرقبضہ کیا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہیٹ ویو کا عام شہریوں کیساتھ مرادعلی شاہ پر بھی اثرہے، بلاول بھٹو اور آصف زرداری مراد علی شاہ سےمعافی طلب کریں، 48 گھنٹے کے اندر معافی نہیں آتی تو احتجاج کریں گے، 26 مئی رات ساڑھے10 بجے لیاقت آباد10نمبر پر احتجاج کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ احتجاج میں آفاق احمد، مہاجراتحاد کےسلیم حیدر مصطفیٰ کمال،عامرخان،خالدمقبول کو شرکت کی دعوت دیتا ہوں، احتجاج کے بعد تحریک چلے گی، جو عوامی ریفرنڈم ہوگا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ  کا کہنا تھا کہ ہم نےملک میں نئےصوبوں کی بات کی سندھ میں نہیں، سندھ کے شہری علاقے کے لوگوں کوچیلنج نہ دیں، غصہ نہ دلائیں ، وزیراعلیٰ سندھ کے الفاظ ہمارے دل پر برسے ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری اپنے وزرا کو لگام دیں، بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائےگی، شہری عوام بتائیں گے جب چاہا پاکستان بنے تو  پاکستان بنادیا، جب چاہیں گےجنوبی سندھ صوبہ بنےتوہم وہ بھی بنادیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں سےمتعلق ہماری پٹیشن عدالت میں ہے، میں چیف جسٹس سےاپیل کرتاہوں ہماری اپیل کو سنیں۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ کوئی بھی بات کریں تحمل سے سن لیناچاہئے، عدم برداشت کی پالیسی نقصان دہ ہے، عدم برداشت کی بات ختم برداشت پرنہ چلی جائے، پی پی کے جو لوگ ایوان میں ہیں تحمل سے میری بات سنیں، وزیراعلیٰ نےایک طبقےکےخلاف متعصب بات کی، پیپلزپارٹی کا فرض بنتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ کی بات کانوٹس لیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم نےاب تک جنوبی سندھ کی بات نہیں کی، سندھ میں مزید انتظامی یونٹ بنانے کی بات بھی نہیں کی، پیپلزپارٹی کے10سال کے ظلم کی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا، روزگار،تعلیمی اداروں میں داخلےسے شہرکےلوگ محروم ہیں، دیہی اورشہری سند کےلوگوں میں وسائل کی بنیاد پر تقسیم کی گئی، اگرذہنوں میں جنوبی سندھ صوبے کی سوچ آرہی ہے تو آپ روکیں۔

انھوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا مطالبہ کوئی معیوب بات نہیں ہے، سوچ پر لعنت بھیجنے کے بجائے اپنےعمل پرلعنت بھیجیں ، آپ نے40سال تک کوٹہ سسٹم نافذ کر کے کتنے ہاریوں کو ترقی دی؟ لوگوں کو یہ قوم پرستی کی طرف لے کر جارہے ہیں، آپ کہتے ہیں کہ جنوبی سندھ صوبہ نہیں بناسکتے، جنہوں نے پاکستان بنا دیا انہیں صوبہ بنانے سے کون روک پائے گا، یہ بیج جو آپ بورہےہیں آپ ہی کاٹیں گے۔

فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے، پالیسی وڈیروں نےبنائی جوسراسرسندھ کی تقسیم ہے، پیپلزپارٹی کے وڈیرے جاگیردار  تقسیم کی بات کر رہے ہیں، دیوارسے نہ لگایا جائے صوبے کے مطالبے پر نہ لگایا جائے، ہم خود سندھ کی تقسیم کی سوچ کے خلاف لڑ رہےہیں۔

انھوں نے کہا کہ مرادعلی شاہ کا عمل ہماری کوششوں کورائیگاں کررہاہے، معاملات نکالے گئے تو آخر کب تک روک پائیں گے، کراچی کی بڑی آبادی سوچ رہی ہے ہمارا صوبہ ہونا چاہیے، کوئی حل نکالیں، لعنتیں بھیجنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

خیال رہے گذشتہ روز مرادعلی شاہ نے کہا تھا صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں