The news is by your side.

Advertisement

ارباب اختیار ہمیں جمہوری، انتخابی عمل سے باہر نہ کریں، فاروق ستار

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ارباب اختیار ہمیں جمہوری، انتخابی عمل سے باہر نہ کریں، وارننگ دیتا ہوں ہمیں ہماری سیاسی جگہ دی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے 34ویں یوم تاسیس کے جلسے سے لیاقت آباد میں خطاب کرتے ہوئے کیا، فاروق ستار نے کہا کہ ہم 23 اگست کو ملک دشمنوں کے خلاف کھڑے ہوئے، ہم نے 23 اگست کو ایم کیو ایم کو بچا کر پیروں پر کھڑا کیا، یہ مائنس نہیں مائنس ایم کیو ایم کا فارمولا تھا۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ آج بھی حقیقی ٹو بنانے کی سازش ہورہی ہے، مائنس ٹو سربراہ کی سازش ہورہی ہے، ہم ایم کیو ایم کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، صبر برقرار رکھیں خالد مقبول صدیقی بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ 23 اگست کو پاکستان کے لیے کھڑے ہوئے، صبر کا مزید امتحان نہ لیں، وقت نے ہم سے ایک اور امتحان مانگا، صرف پاکستان کے لیے پارٹی قائد سے علیحدگی اختیار کی، ہم نے سب کو یکجا کیا اور ایم کیو ایم پاکستان کو کھڑا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 34 سال میں ایم کیو ایم کو مٹانے کی بے شمار کوششیں ہوئیں، سازشوں کے باوجود مخلص کارکنان کی وجہ سے ایم کیو ایم قائم ہے، پاکستان دولخت ہورہا تھا اس وقت بھی ہم نے قربانیاں دیں، ہماری قربانیوں کی وجہ سے پاکستان آج قائم و دائم ہے۔

 کامران ٹیسوری کا ایم کیو ایم چھوڑنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں آج آپ سے آخری خطاب کررہا ہوں، میں ایک ماہ سے سکون سے نہیں سویا، میرے اپنے پوچھتے ہیں میں نے ایسا کیا کیا جو پارٹی تقسیم ہوئی۔

کامران ٹیسوری نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ نہیں جانتا بہادر آباد کے ساتھیوں کو کون سی بات بری لگی، بار بار پوچھنے پر بھی نہیں بتایا گیا کہ میری غلطی کیا ہے، عامر خان سمیت تمام رہنماؤں سے گھر جاکر معافی مانگنے کو تیار ہوں، میری وجہ سے مہاجروں کی تقسیم بچ سکتی ہے تو استعفیٰ دینے کو تیار ہوں، میں فاروق ستار کے ساتھ رہوں گا اور ان کے ہاتھ مضبوط کروں گا۔

یہ پڑھیں: اقربا پروری والی نہیں 1984 والی ایم کیو ایم بنائیں گے، فیصل سبزواری


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں