The news is by your side.

Advertisement

ایف بی آر کا منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کیلئے اہم اقدام

اسلام آباد : ایف بی آر نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کیلئے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے عالمی شرائط کو پورا کرنے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سیل قائم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کرنسی اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف موثر اور بر وقت اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا سیل قائم کردیا۔

یڈیا رپورٹ کے مطابق یہ سیل ایف اے ٹی ایف کے کام سے متعلق ضروری معلومات ایف بی آر سے حاصل کرے گا، اس سیل کو ڈائریکٹر جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کے زیر انتظام قائم کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کسٹمز آفیسر وحید مروت کو سیل کا سربراہ بنایا گیا ہے جو ڈائریکٹر، ڈائریکٹریٹ آف کراس بارڈر کرنسی موومنٹ کا چارج بھی سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی تجاویز میں سب سے اہم سرحد پار کرنسی کی نقل و حرکت کے ڈائریکٹریٹ کا قیام شامل تھا، جو قومی سطح پر رقم اسمگلنگ کرنے والوں کی پروفائل بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

علاوہ ازیں ایک اور کسٹمز آفیسر محمد آصف کا تبادلہ کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف سیل کا ایڈیشنل ڈائریکٹریٹ تعینات کیا گیا جبکہ واجد زمان کو ڈپٹی ڈائریکٹر، ظہور احمد مغل کو سپرنٹنڈنٹ اور ساجد محبوب کو انٹیلی جنس افسر تعینات کیا گیا ہے۔

کسٹم افسر کے مطابق محکمہ کسٹمز نے کرنسی اسمگلنگ کے کیس میں گزشتہ 5 برسوں میں 144 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے 30 افراد کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران گرفتار کیا گیا۔

محکمہ کسٹم اس بات کا تعین کر رہا ہے کہ کرنسی اسمگلنگ میں ملوث افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا یا نہیں جبکہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ اس کام سے بنائے گئے پیسوں کو کالعدم تنظیموں نے استعمال کیا گیا یا نہیں، دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے حوالے سے کوئی کڑی ملنے پر معلومات کو محکمہ کسٹمز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک مطلع کیا جائے گا۔

دوسری جانب مالی سال 19-2018 کے دوران پاکستان کسٹمز نے 48 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی کرنسی ضبط کی جبکہ اس سے گزشتہ سال ایک کروڑ 57 لاکھ روپے مالیت کی کرنسی ضبط کی گئی تھی۔

تاہم گزشتہ 5 برسوں میں 118 کیسز میں ضبط کی گئی رقم 91 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے جبکہ گرفتار افراد میں سے 65 پر فرد جرم عائد کی گئی جبکہ 19 کو بری کیا گیا جبکہ ان کیسز میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں