The news is by your side.

Advertisement

بجلی کے معاملات سے متعلق ن لیگ کا دور حکومت بدترین تھا: وزیر اطلاعات

اسلام آباد: فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ن لیگ نے لوگوں سے جو کھیل کھیلا عوام کے سامنے لائیں گے۔ بجلی کے معاملات سے متعلق ن لیگ کا دور حکومت بدترین تھا۔

تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ 40 دن کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، یہ لوگ 10 سال کیا کرتے رہے جو 40 دن کی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے تھوڑا انتظار کرلیں نیا پاکستان ابھر کر آئے گا، بجلی 11.71 روپے فی یونٹ دی جارہی ہے، شہباز شریف کہتے تھے ہم نے سستی بجلی کے پلانٹ لگائے۔ حکومت کو بجلی کی قیمت 14.22 روپے میں پڑ رہی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ صوبوں کو نیٹ ہائیڈل میں سے منافع دینا ہے۔ گزشتہ حکومت کے 2 سال میں بجلی کی قیمت 15 روپے 53 پیسے کی ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 15 روپے 53 پیسے میں فی یونٹ بجلی بناتی ہے، حکومت کو فی یونٹ 2 روپے 63 پیسے نقصان ہو رہا ہے۔ 34 سے 36 ارب روپے گردشی قرضے میں اضافہ ہو رہا ہے، بجلی کے معاملات سے متعلق ن لیگ کا دور حکومت بدترین تھا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ روزانہ بجلی کی طلب 14 ہزار 900 میگا واٹ کے لگ بھگ ہے، نیپرا نے تجویز دی کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کریں۔ ’نیپرا ہم نے نہیں بنایا، گزشتہ حکومت نے بنایا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم چوروں اور ڈاکوؤں کے احتساب کی بات کرتے ہیں، احتساب کی بات کریں تو کہا جاتا ہے یہ لفظ اور طریقہ مناسب نہیں۔ جہاں احتساب کی بات آتی ہے وہاں جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، ’فالودے والے اور طلبا کے اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے نکل رہے ہیں، فیصلہ عوام نے کرنا ہے، پاکستان میں تبدیلی لانی ہے یا نہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بجلی پلانٹس کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے، ایل این جی اور پنجاب کے پلانٹس کی تحقیقات نیب کرے گا۔ ن لیگ نے لوگوں سے جو کھیل کھیلا عوام کے سامنے لائیں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے نیا کلچر متعارف کروایا ہے، وزیر اعظم کسی حلقے میں نہیں گئے، کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا۔ پہلی بار حکمران جماعت انتخابی معاملات سے مکمل لاتعلق رہی۔ وزیر اعظم نے بیرون ملک سے آنے والا پیسہ بڑھانے کی ہدایت کی۔ منی لانڈرنگ روکنے اور سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ابھی بجلی کے معاملے پر بحث نہیں ہوئی، حکومت کتنی بجلی پر سبسڈی دے گی فیصلہ اجلاس میں ہوگا۔ برآمدی انڈسٹری کو سہولتیں دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گیس کی 143 فیصد قیمت بڑے ہوٹلوں کے لیے بڑھائی، ہم تندور والوں کو ریلیف دیں گے، بڑے ہوٹلز کو کیوں دیں؟ حکومت کے پاس زیادہ گیس ہوگی تو انہیں بھی دے دیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں